• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معاشرے میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کا تدارک و سدباب

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ڈاکٹر نعمان نعیم

اسلام میں جن کاموں کی شدت کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اور جن سے منع فرمایا گیا ہے، ان میں ایک نشہ کا استعمال بھی ہے، قرآن مجید نے نہ صرف یہ کہ اسے حرام بلکہ نا پاک قرار دیا ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بڑی سخت وعید آئی ہے اور بار بار رسول اللہ ﷺنے پوری وضاحت کے ساتھ اس کے حرام اور گناہ ہونے کو بتایا ہے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔(صحیح بخاری)

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓسے آپﷺ کا ارشاد مروی ہے کہ جس شے کی زیادہ مقدار نشہ کا باعث ہو ، اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔ (ترمذی، : ۱۸۶۵) یہ نہایت اہم بات ہے، کیوںکہ عام طور پر نشہ کی عادت اسی طرح ہوتی ہے کہ معمولی مقدار سے انسان شروع کرتا ہے اور آگے بڑھتا جاتا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات اتنا آگے بڑھ جاتا ہے کہ زہر آمیز انجکشن کے بغیر اس کی تسکین نہیں ہوتی۔

ہمارے معاشرے میں منشیات کی وباء عام ہونے کی سب سے بنیادی وجہ یہی ہے کہ ایمانی جذبات کمزور اور سرد پڑگئے ہیں، بے خوفی اورجرأت بڑھ گئی ہے، اللہ کا خوف رخصت ہورہا ہے، موت کی یاد سے غفلت عام ہے، آخرت کی فکر اور بارگاہ ِرب العزت میں حاضری اور جواب دہی کا استحضار باقی نہیں رہا، اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ گناہوں کی طرف لوگ سرپٹ دوڑے جارہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ان کی لگام ان کے نفس کے قبضے میں ہے، اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب انسان دین و شریعت کی لگام اپنے اوپر سے ہٹا دیتا ہے، تو پھر اللہ کی امان سے محروم ہوجاتا ہے اور اللہ کو پروا بھی نہیں ہوتی کہ وہ ہلاکت کے کس کھڈ میں جاگرا۔

احادیث میں وارد ہوا ہے کہ جو بندہ اللہ کے دین کی طرف متوجہ ہوتا ہے اللہ اسے توفیق سے نوازتا ہے، جو اللہ سے نصرت کا طالب ہوتا ہے، اللہ اس کی مددکرتا ہے، جو اللہ کی طرف رجوع ہوتا ہے اللہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔

ان تفصیلات سے واضح ہوتا ہے کہ جب تک ایمانی جذبات کم زور رہیں گے، اور اللہ و آخرت کا خوف دلوں میں پیدا نہیں ہوگا، گناہ کے راستے سے واپسی نہیں ہوسکے گی، آج منشیات کے عام استعمال کا بنیادی سبب یہی ہے کہ امت ایمانی قوت سے محروم اور بارگاہ الٰہی میں باز پُرس کی حقیقت سے بے فکری اور بے خوفی میں مبتلا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے نشہ آور اشیاء کے ساتھ ساتھ ایسی چیزوں سے بھی منع فرمایا، جو جسم کے لئے ’’ فتور ‘‘ کا باعث بنتی ہوں، یعنی ان سے صحت میں خلل واقع ہوتا ہو۔ مسند احمد میں ہے، حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ شراب تین مرحلوں میں حرام ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺجب مدینہ تشریف لائے تو اس وقت لوگ شراب پیتے اور جوئے کی آمدنی کھاتے تھے، ایک مرتبہ لوگوں نے اس کا حکم دریافت کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی :’’وہ تم سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں‘‘۔

لوگوں نے اس آیت سے یہ سمجھا کہ ابھی یہ حرام نہیں کی گئی، بلکہ ان کے نقصانات بیان کئے گئے ہیں۔ چنانچہ وہ بدستور شراب پیتے رہے۔ دوسرے مرحلے پر اللہ نے پہلی آیت سے زیادہ سخت آیت نازل فرمائی :’’اے ایمان والو، نشے کے حال میں نماز کے پاس نہ جایا کرو‘‘۔

پھر مزید سخت آیت نازل ہوئی اور فرمایا:’’اے ایمان والو، شراب، جوا تھان، اور پانسے کے تیر بالکل نجس شیطانی کاموں میں سے ہیں ‘‘۔اب لوگوں کو سمجھ آئی کہ بےشک، شراب حرام ہے۔ ذرا غور کریں کہ شراب کتنی خراب چیز ہے کہ اسے تین مرحلوں میں حرام کیا گیا۔

اولاد کو بنانے یا بگاڑنے میں سب سے نمایاں کردار گھر کی اخلاقی تعلیم و تربیت کا ہوتا ہے، اگرو الدین یا ذمہ داران اپنی اولاد کی ٹھوس اور پختہ دینی تعلیم اور اعلیٰ اخلاقی تربیت کی فکر کریں گے، ان کے شب و روز کی مشغولیات کی حکمت کے ساتھ نگہداشت رکھیں گے، انہیں منکرات اور فواحش کے راستوں پرجانے سے روکیں گے، وہ تمام اسباب اور ذرائع جو بگاڑ کے راستے پر لے جاتے ہیں۔ ان سے اپنی اولاد کو روکیں گے، ان کی دینی و اخلاقی تربیت پر توجہ دیں گے،تو ہی اصلاح اور تربیت ممکن ہوسکے گی۔

تجربات اورمشاہدات سب سے ثابت ہوچکا ہے کہ جوافراد قرآنی اوردینی تعلیم سے آراستہ ہوتے ہیں، اور اسے اپنا مشغلہ بنالیتے ہیں وہ بالعموم جرائم سے محفوظ رہتے ہیں، اور بطورخاص نشے بازی اور اس جیسے گناہوں سے تو بالکل الگ رہتے ہیں، صاحب ایمان معاشرے میں ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لئے اور اپنے تمام متعلقین کے لئے قرآن کی اور بنیادی دینی تعلیم کو ضروری سمجھے، زندگی کا سفر اس کے بغیر صحیح سمت میں جاری نہیں رہ سکتا اورمنشیات سمیت دیگر جرائم سے تحفظ کے لئے بھی یہ بنیادی ضرورت ہے۔

مثبت، صالح، اور مفید مشاغل میں مشغولیت انسان کو گناہوں کے راستے سے روکتی ہے، انسان بالکل خالی ہو اور کوئی صالح مشغلہ نہ رکھتا ہو تو بسا اوقات نفس و شیطان کے وساوس اسے منشیات اور دیگر جرائم کی راہ پر لے جاتے ہیں، اس لئے حتیٰ الامکان صالح مشاغل میں مشغول رہنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ معاشرے کے ذمہ داران کو اس حوالے سے بھی حتی المقدور اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اقراء سے مزید