دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک مستقبل قریب میں دنیا کے پہلے ٹریلینئر (کھرب پتی) بن سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایلون مسک کی دولت میں اضافے کی بڑی وجہ ان کی کمپنی ٹیسلا کے شیئرز اور اسپیس ایکس میں ان کی بڑی ملکیت ہے۔
تخمینوں کے مطابق مسک کے پاس ٹیسلا کے تقریباً 273 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز اور آپشنز موجود ہیں، اگر اسپیس ایکس کی متوقع مالیت 1.77 ٹریلین ڈالرز تک پہنچتی ہے تو کمپنی میں ان کی تقریباً 50 فیصد ملکیت ان کی دولت میں مزید 841 ارب ڈالرز کا اضافہ کر سکتی ہے، جس سے ان کی مجموعی دولت 1.1 ٹریلین ڈالرز سے تجاوز کر سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دولت زیادہ تر پیپر ویلتھ ہے، یعنی اس کا انحصار کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو پر ہے اور یہ مکمل طور پر نقد رقم کی صورت میں موجود نہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق دنیا کے صرف چند ممالک کی معیشت کا حجم ایک ٹریلین ڈالرز سے زیادہ ہے، سوئیڈن، تائیوان اور سنگاپور جیسی مضبوط معیشتیں بھی اس سطح سے نیچے ہیں۔
امریکا میں ایک سال کے دوران فروخت ہونے والی تمام نئی گاڑیوں کی مجموعی مالیت بھی 800 ارب ڈالرز سے کم ہے، دنیا کی کئی بڑی اسپورٹس ٹیموں کی مشترکہ مالیت بھی ایک ٹریلین ڈالرز کے قریب نہیں پہنچتی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس وقت ایلون مسک کی مجموعی دولت تقریباً 788 ارب سے 834 ارب ڈالرز کے درمیان ہے، تاہم مختلف مالیاتی اداروں کے تخمینے ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
اگر اسپیس ایکس کی مالیت مستقبل میں متوقع سطح تک پہنچ جاتی ہے اور ٹیسلا کے حصص اپنی موجودہ قدر برقرار رکھتے ہیں، تو ایلون مسک تاریخ کے پہلے ایسے شخص بن سکتے ہیں جن کی دولت 1 ٹریلین (کھرب) ڈالرز سے تجاوز کر جائے گی۔