• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شی جن پنگ کا شمالی کوریا پہنچنے پر شاندار استقبال، کم جونگ اُن سے اہم سربراہی ملاقات

---فوٹو بشریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشریہ بین الاقوامی میڈیا 

چینی صدر شی جن پنگ شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ پہنچ گئے جہاں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے اپنی اہلیہ ری سول جو کے ہمراہ ہوائی اڈے پر اِن کا پرتپاک استقبال کیا۔

چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شی جن پنگ کا یہ دورہ 2 روزہ سرکاری اور 2019ء کے بعد پہلا دورہ ہے۔

استقبال کی تفصیلات

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سنان بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سرخ قالین بچھایا گیا تھا جبکہ اعزازی فوجی دستے بھی موجود تھے۔ 

شمالی کوریا کے بچوں نے شی جن پنگ اور خاتون اول پنگ لی یوان کو پھول پیش کیے۔

کم اِل سنگ اسکوائر میں سرکاری استقبالیہ

شی جن پنگ کی آمد کے بعد کم اِل سنگ اسکوائر میں باقاعدہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی، فوجی بینڈ نے دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے جبکہ 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

شی جن پنگ اور کم جونگ اُن نے اعزازی دستوں کا معائنہ کیا، اس موقع پر ہزاروں شہری، طلبہ اور بچے چین اور شمالی کوریا کے پرچم اٹھائے موجود تھے اور دونوں ممالک کی دوستی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

تقریب کے اختتام پر غبارے بھی فضا میں چھوڑے گئے۔

اعلیٰ سطحی وفد بھی ہمراہ

چینی صدر کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی پیانگ یانگ پہنچا ہے جس میں چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور دیگر سینئر حکام بھی شامل ہیں۔

استقبالیہ تقریب کے بعد شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ ’کومسوسان اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس‘ روانہ ہوئے جہاں ان کی رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔

2019ء کے دورے سے مشابہ پروگرام

رپورٹس کے مطابق موجودہ دورے کا شیڈول بڑی حد تک جون 2019ء کے دورے سے ملتا جلتا ہے جب کم جونگ اُن نے خود ہوائی اڈے پر شی جن پنگ کا استقبال کیا تھا اور دونوں رہنماؤں نے متعدد ملاقاتیں کی تھیں۔

اب تک شی جن پنگ اور کم جونگ اُن کے درمیان 6 ملاقاتیں ہو چکی ہیں جبکہ آخری ملاقات گزشتہ سال ستمبر میں بیجنگ میں ہوئی تھی۔

جوہری پروگرام پر خاموشی برقرار

شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے چین ماضی میں تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے تاہم حالیہ برسوں میں بیجنگ نے اس موضوع پر کھل کر بات کرنے سے گریز کیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شی جن پنگ کے دورے سے قبل کم جونگ اُن نے یورینیم افزودگی مرکز، جوہری صلاحیت رکھنے والے جنگی جہاز اور میزائل فیکٹریوں کا دورہ کیا جسے مبصرین چین کے لیے ایک واضح پیغام قرار دے رہے ہیں کہ پیانگ یانگ اپنے جوہری پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت نہیں چاہتا۔

دوسری جانب کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے بھی اتوار کے روز ایک بیان میں امریکا پر تنقید کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر چین کو یاد دلایا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کا معاملہ زیرِ بحث نہ لایا جائے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید