امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ کچھ عرصے سے اسلامی ممالک پر ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کیلئے دبائو میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی صدر نے 23مئی کو 8 اسلامی ممالک سعودی عرب کے ولی عہد، یو اے ای کے صدر، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، مصر کے صدر، بحرین اور قطر کے امیر، ترکیہ کے صدر اور اردن کے شاہ سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے زور دیا کہ ایران، امریکہ معاہدے کی صورت میں اسلامی ممالک ابراہیمی معاہدے میں شمولیت اختیار کریں اور وہ اسلامی ممالک جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے، اس معاہدے میں شامل ہوکر اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات کا آغاز کریں اور ان ممالک میں ایران بھی شامل ہوسکتا ہے۔ امریکی صدر کے اچانک اس مطالبے پر اسلامی ممالک کے سربراہان حیرت زدہ رہ گئے اور کچھ دیر کیلئے خاموشی چھاگئی جس پر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ کہنا پڑا کہ ’’آپ ٹیلیفون پر موجود ہیں یا نہیں؟‘‘
بعد ازاں پاکستان اور سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی امریکی تجویز کو یکسر مسترد کردیا گیا اور کہا گیا کہ ایران، امریکہ معاہدہ اور معاہدہ ابراہیمی دو الگ الگ معاملات ہیں جنہیں ایک دوسرے سے جوڑا نہیں جاسکتا۔ یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں دنیا کے تین بڑے مذاہب اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے اشتراک کی غرض سے واشنگٹن ڈی سی میں ’’ابراہیمی معاہدے‘‘ کا اعلان کیا تھا اور فلسطین، اسرائیل تنازع کے دیرپا حل کیلئے اسلامی ممالک کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات استوار کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔اس حوالے سے 15ستمبر 2020ءکو یو اے ای اور بحرین نے وائٹ ہائوس میں اسرائیل کے ساتھ ابراہیمی معاہدے پر دستخط کئے۔ بعد ازاں مراکش، سوڈان اور قازقستان بھی ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوگئے۔ اس پیشرفت کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں اہم ترین کامیابی قرار دیا تھا۔
امریکہ کا موقف ہے کہ ابراہیمی معاہدہ مشرقِ وسطی میں امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ کا باعث بنے گا جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک اور اسرائیل کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات کو معمول پر لاناہے، معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل اور اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آنے سے خطے میں کشیدگی کم ہوگی، سرمایہ کاری بڑھے گی، تجارت کو فروغ ملے گا اور جدید ٹیکنالوجی و دفاعی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ تاہم ابراہیمی معاہدے کے مخالف اسلامی ممالک کا موقف ہے کہ اس معاہدے کا اصل مقصد اسرائیل کو خطے میں مکمل سیاسی قبولیت دلانا اور مسئلہ فلسطین کو پس منظر میں دھکیلنا ہے۔
میرے مطابق امریکہ کی ابراہیمی معاہدے میں دلچسپی کی ایک بڑی وجہ مشرقِ وسطی میں اپنے اسٹرٹیجک مفادات کا تحفظ ہے۔ امریکہ خطے میں ایسا سیاسی اور سکیورٹی اتحاد قائم کرنا چاہتا ہے جو اس کے مفادات اور اتحادیوں کیلئے سودمند ہو۔ اسرائیل، امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور امریکہ طویل عرصے سے اسرائیل کی علاقائی قبولیت میں اضافے کی کوشش کرتا رہا ہے اور ابراہیمی معاہدہ اسی پالیسی کا تسلسل سمجھا جاتا ہے۔
ابراہیمی معاہدہ صرف ایک سفارتی معاہدہ نہیںبلکہ مشرقِ وسطی کے مستقبل کی سمت متعین کرنیوالی ایک بڑی جغرافیائی و سیاسی حکمت عملی کا حصہ بھی ہے۔ گزشتہ کئی برسوںسےامریکہ سعودی عرب پر ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کیلئے زور ڈالتا رہا ہے۔ سعودی عرب کی حیثیت عالم اسلام میں نہایت اہم ہے اور اگر وہ اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تومستقبل میں اس کے اثرات پوری مسلم دنیا پر مرتب ہوسکتے ہیں تاہم سعودی عرب کا یہ واضح موقف ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے بغیر اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان کا بھی ابراہیمی معاہدے کے بارے میں سعودی عرب کے موقف سے کچھ مختلف نہیں، پاکستان ایسے کسی معاہدے میں شمولیت کا اُس وقت تک سوچ بھی نہیں سکتا جب تک سعودی عرب معاہدے میں شامل نہ ہو اور فلسطینیوں کو اُن کے حقوق اور ایک آزاد ریاست کا حق نہ مل جائے۔
غزہ میں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے اسرائیلی مظالم اور انسانی بحران نے ابراہیمی معاہدے کے مستقبل پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینیوں کی شہادت اور بڑے پیمانے پر تباہی کے باعث مسلم دنیا میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی اسلامی ملک کیلئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی ممکن نہیں۔ ابراہیمی معاہدے کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ آیا یہ معاہدہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور خطے میں انصاف پر مبنی امن کو یقینی بنا تا ہے یا نہیں۔ عالم اسلام کیلئے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ امریکی دبائو میں آئے بغیر اپنے قومی مفادات، اُمت مسلمہ کے اجتماعی موقف اور فلسطینی عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے۔ اگر فلسطین کے بنیادی مسئلے کو نظرانداز کرکے صرف سفارتی اور تجارتی تعلقات کو ترجیح دی گئی تو خطے میں پائیدار امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔