مالی سال 2026-27ءکا وفاقی بجٹ، جس کی منظوری یکم جولائی تک متوقع ہے، ایک مختلف زاویے سے دیکھے جانے کا متقاضی ہے۔ یہ محض موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے والا بجٹ نہیں بلکہ ایک اصلاحاتی دستاویز ہے، اور ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان محض معاشی استحکام سے آگے بڑھ کر پائیدار ترقی کے بارے میں سوچنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔اس بجٹ کو سمجھنے کیلئے معاشی پس منظر کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے صرف 0.7فیصد تک محدود رہا، جو ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک فیصد سے کم سطح پر آیا۔ اسی عرصے میں بنیادی سرپلس جی ڈی پی کے3. 2 فیصد تک پہنچ گیا، جو ایک ریکارڈ ہے۔ مالی سال 2025 میں ٹیکس وصولیوں میں 26 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مالی سال 2026 کے مقررہ ہدف کا 94 فیصد حاصل کر لیا گیا۔ افراطِ زر نو ماہ کے اوسط کے لحاظ سے6. 1فیصد پر آ چکا ہے، جبکہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر11.5فیصد رہ گیا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل تین ماہ سے سرپلس میں ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔یہ وہ معاشی حالات نہیں جن میں ایک دفاعی یا ہنگامی نوعیت کا بجٹ مرتب کیا جاتا ۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ایک ملک اپنی ترجیحات کا انتخاب کر سکتا ہے اور فیصلہ کر سکتا ہے کہ اسے کن شعبوں کی پشت پناہی کرنی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران وفاقی کابینہ کے مختلف ورکنگ گروپس اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے سامنے آنیوالے اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت کی توجہ نجی شعبے کی قیادت میں ترقی، برآمدات میں اضافے، کرنٹ اکاؤنٹ اور مالیاتی توازن کے استحکام اور افراطِ زر کو ایک ہندسے تک محدود رکھنے پر مرکوز ہے۔سوال یہ ہے کہ ایک اصلاحاتی بجٹ عملی طور پر کیسا ہوتا ہے؟ عام طور پر تین خصوصیات اسے ایک روایتی سالانہ بجٹ سے ممتاز کرتی ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرتا ہے۔ دوسری یہ کہ وہ مراعات اور تحفظات کو غیر پیداواری شعبوں سے ہٹا کر ان سرگرمیوں کی طرف منتقل کرتا ہے جو برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار پیدا کرتی ہیں۔ اور تیسری یہ کہ وہ پہلے سے جاری اصلاحات، خصوصاً ٹیرف پالیسی، نجکاری اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات، کو آگے بڑھاتا ہے۔
پہلے نکتے کے حوالے سے وفاقی کابینہ سے ملنے والے اشارے واضح کرتے ہیں کہ تاجروں اور ریٹیل سیکٹرکیلئے ایک طویل عرصے سے زیرِ التوا ٹیکس نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ تاجر برادری کے ساتھ کئی ماہ سے مشاورت جاری ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ کوئی ایسا طریقۂ کار وضع کیا جائے جو تصادم کے بجائے باہمی مفاد پر مبنی ہو۔ اس نظام کی کامیابی کا انحصار اسکے نفاذ اور مؤثر عملدرآمد پر ہوگا، تاہم اس بڑے شعبے کو رسمی ٹیکس نظام کا حصہ بنانا بہرحال درست سمت میں ایک اہم قدم ہے۔تنخواہ دار طبقے کے حوالے سے بھی اس بجٹ میں نسبتاً مختلف حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے بارہا واضح کیا گیا ہے کہ اس بجٹ کا اضافی بوجھ 35 ہزار یا ایک لاکھ روپے ماہانہ کمانے والے متوسط طبقے پر نہیں بلکہ زیادہ آمدنی والے طبقات پر ہوگا، خصوصاً ان افراد پر جنکی ماہانہ آمدنی 80 لاکھ روپے سے تجاوز کرتی ہے۔صنعتی پالیسی کے تناظر میں الیکٹرک گاڑیوں اور آٹو موبائل سیکٹرکیلئے متوقع اقدامات بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ اقدامات اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں جسکا مقصد صنعتی ڈھانچے کو ایسی سرگرمیوں کی جانب منتقل کرنا ہے جو درآمدی انحصار کم کریں اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ کریں۔ وزیرِ اعظم کی جانب سے بارہا الیکٹرک گاڑیوں اور شمسی توانائی کو قومی ترجیحات قرار دیا جا چکا ہے، اور توقع ہے کہ بجٹ میں ان ترجیحات کی واضح جھلک نظر آئیگی۔ اسی طرح کارپوریٹ سیکٹر کے حوالے سے بھی مقصد ٹیکسوں میں غیر معمولی اضافہ نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ معاشی سرگرمیوں کو دستاویزی اور رسمی معیشت کا حصہ بنانا ہے۔اس بجٹ کو گزشتہ بجٹوں کے مقابلے میں جو اضافی گنجائش حاصل ہوئی ، اسکی بڑی وجہ جاری ساختی اصلاحات ہیں۔ قومی ایئرلائن کی نجکاری، بجلی کے شعبے میں کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (CTBCM) کا عملی آغاز، قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 پر عملدرآمد اور ایف بی آر کی ڈیجیٹل تبدیلی کا پروگرام ایسے اقدامات ہیں جو ہر سال مالی فوائد میں اضافہ کر رہے ہیں۔ گردشی قرضے میں ہونیوالی ہر کمی اور ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے حاصل ہونیوالی ہر اضافی وصولی درحقیقت بجٹ پر پڑنیوالے اضافی دباؤ کو کم کرتی ہے۔اسی تناظر میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) سے بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ماضی کی طرح چھوٹے چھوٹے سیاسی منصوبوں میں وسائل تقسیم کرنے کے بجائے بڑے موضوعاتی منصوبوں پر توجہ دے گا۔
ایسے ملک کیلئے یہی مناسب حکمتِ عملی ہے جسکے بنیادی ڈھانچے کے مسائل زیادہ تر رابطہ کاری، توانائی کی ترسیل اور ڈیجیٹل عوامی انفراسٹرکچر سے متعلق ہیں۔یقیناً ناقدین حسبِ روایت اپنی سرخیاں تلاش کر لیں گے۔ کچھ اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے اور حقیقت یہ ہے کہ اصلاحاتی بجٹ کے اہداف ہمیشہ بلند اور پُرامید ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا موجودہ نظام ایسا ہے کہ ایف بی آر کی وصولیوں میں وفاقی حکومت کا برقرار رہنے والا حصہ بڑی حد تک قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جسے کوئی ایک بجٹ راتوں رات حل نہیں کر سکتا۔تاہم اس بجٹ سے ایک اہم کام ضرور لیا جا سکتا ہے، اور ابتدائی اشارے یہی بتاتے ہیں کہ یہ بجٹ معاشی استحکام کو پائیدار ترقی کی بنیاد میں تبدیل کرنیکی کوشش کرئیگا۔ پاکستان کی آئندہ آٹھ سے دس سال کی معاشی سمت کا تعین کسی ایک بجٹ سے نہیں ہوگا بلکہ اس بات سے ہوگا کہ اصلاحات کا موجودہ سفر کس حد تک جاری رہتا ہے۔ بجٹ 2026-27 کی اصل اہمیت بھی یہی ہے کہ یہ اس اصلاحاتی رفتار کو برقرار رکھنے اور معاشی بحالی کو ترقی کے ایک مضبوط پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
(صاحب تحریرسرکاری پالیسی اور اقتصادی امور کے مبصر ہیں)