کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچ کے سربراہ جسٹس سلیم جیسر نے لاڑکانہ میں کاروکاری کے الزام میں نوجوان کے قتل اور لاش نہر میں بہانے سے متعلق سابق چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا سوموٹو نوٹس غیر موثر قرار دیدیا۔عدالت نے مقتول کی والدہ کی جانب سے لاش کی بازیابی سے متعلق درخواست خارج کردی۔لاڑکانہ میں کاروکاری کے الزام میں نوجوان کے قتل اور لاش نہر میں بہانے کےکیس کی سماعت سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بنچ کے روبرو ہوئی۔سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار کے بیٹے علی احمد بروہی کے لاپتہ ہونے کے بعد قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔