• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت و متعلقہ محکمے چائلڈ لیبر کی روک تھام میں ناکام

سکھر (بیورو رپورٹ) حکومت سندھ اور متعلقہ محکمے چائلڈ لیبر کی روک تھام میں ناکام، سکھر سمیت سندھ بھر میں کم عمر بچوں سے جبری مشقت لئے جانے کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا، ننھے معصوم بچے ہوٹل، گیراجوں، کارخانوں، فیکٹریوں سمیت دیگر مقامات پر دن بھر کڑی مشقت کرنے پر مجبور ہیں، معاوضہ کی لالچ میں بچوں کے غریب و تنگ دست والدین انہیں کام پر بھیجتے ہیں، بچوں کا جنسی، نفسیاتی، معاشی، معاشرتی استحصال ہورہا ہے، حکومت و متعلقہ محکموں کے افسران نے چپ سادھ رکھی ہے۔ ننھے منے پھول جیسے پیارے بچوں کے ہاتھوں میں کتاب اور اسکول بیگ ہی اچھے لگتے ہیں تاہم حالات کے ستم رسیدہ کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو کہ پڑھنے لکھنے کی عمر میں پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے ذریعہ معاش کے حصول میں مصروف ہیں۔ ضلع سکھر میں فیکٹریوں، کارخانوں، گیراجوں، ورکشاپس، دکانوں، بیکریوں میں سیکڑوں کم عمربچے دو وقت کی روٹی کے حصول کے لئے تگ و دو کررہے ہیں، چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے حکومت و متعلقہ محکمے بلند و بانگ دعوے و اعلانات تو کرتے ہیں مگر عملی اقدامات نہ ہونے سے معاشرے کا یہ ناسور پھیلتا جارہا ہے۔ سکھر سمیت سندھ کے چھوٹے و بڑے شہروں و دیہاتوں میں چائلڈ لیبر ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی ہے، کم عمر بچوں سے جبری مشقت لی جارہی ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے، بچوں کو کام پر اس لئے رکھا جاتا ہے کہ ایک بالغ آدمی کو پوری مزدوری دینا پڑے گی جبکہ بچہ سستے میں یا مفت میں کام کردیگا۔
ملک بھر سے سے مزید