سکھر (بیورو رپورٹ) ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کے مثبت ثمرات دریاؤں میں پانی کی قلت ختم ہونے کی صورت میں سامنے آرہے ہیں. دریائے سندھ میں بھی سطح آب بلند ہورہی ہے۔ گڈو بیراج پر 2لاکھ، سکھر بیراج پر سوا ایک لاکھ جبکہ کوٹری بیراج پر 50ہزار کیوسک کے لگ بھگ پانی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حاصل ہونیوالے اعداد و شمار کے اعتبار سے مرالہ، خانکی، قادر آباد، بلوکی اور سدھنائی پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال اونچے درجے میں تبدیل ہونے کا امکان ہے جبکہ تربیلا، نوشہرہ، کالا باغ، چشمہ، تونسہ، تریموں اور منگلا پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے، ڈیرہ غازی خان ڈویژن، شمالی بلوچستان کے پہاڑی برساتی نالوں میں طغیانی کا امکان ہے۔ دریائے سندھ میں پانی کی قلت بتدریج ختم ہورہی اور آنیوالے سیزن کی فصلوں کے لئے زرعی پانی کی دستیاب کے امکانات روشن ہورہے ہیں. اس وقت گڈو بیراج پر پانی کی آمد 197141کیوسک، اخراج 158095کیوسک، سکھر بیراج پر پانی کی آمد 121088کیوسک، اخراج 65888کیوسک جبکہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 45429اور اخراج 3165کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صوبہ سندھ کے جنوبی علاقوں میں اگلے 24سے 36گھنٹوں کے دوران متوقع بارشوں کے سبب اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ہے۔