برطانیہ میں اسرائیلی دفاعی کمپنی سے منسلک ایک اسلحہ ساز فیکٹری پر حملے کے مقدمے میں عدالت نے چار افراد کو قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی حمایت یافتہ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے اسرائیل سے متعلق ہتھیاروں کے کارخانے میں گھس کر دہشت گردی پھیلانے کی کوشش کی، جج نے فلسطین ایکشن کے ملزمان کیخلاف اپنا فیصلہ سنا دیا۔
دوسری طرف عدالت کے باہر 100سے زائدحامیوں کو احتجاج کرنے پر حراست میں لے لیا۔
مسٹر جسٹس جانسن نے دوران سماعت سنا کہ برسٹل میں ایلبٹ سسٹمز پر چھاپہ کمپنی کو بندکرنے یا برطانیہ کی حکومت کو اس کے کاموں کو روکنے کے لیے متاثر کرنے کی کوشش تھی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ فیکٹری کو غزہ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پرنشانہ بنایا گیا پرتشد د واقعات میں 12 لاکھ پاؤنڈ کا نقصان پہنچا، حکومت نے بعد میں فلسطین ایکشن کو کالعدم تنظیم قرار دے دیا۔
آکسفورڈ کے 23 سالہ سابق طالب علم سیموئیل کارنر کو تین دیگر افراد کے ساتھ مجرمانہ نقصان کا مجرم قرار دیا گیا تھا کارنر کو سات سال آٹھ ماہ قید تیس سالہ شارلٹ ہیڈ اور تیس سالہ لیونا کامیو کو پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی اور اکیس سالہ فاطمہ راجوانی کو چار سال آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔