کراچی (ٹی وی رپورٹ)ماہرین نے کہا ہے کہ بجٹ ڈائریکشن درست، سرمایہ کاری میں اضافہ مشکل، صنعتوں کو فائدہ، خسارہ ختم، آمدن میں اضافہ ضروری ہے۔ چیئرپرسن پاکستان بزنس کونسل زیلف منیر نےکہا کہ ریگولیٹری اصلاحات،سرکاری اداروں کی نجکاری اور حکومتی اخراجات میں کمی جیسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ڈائریکٹر گل احمد ٹیکسٹائل ملز زیاد بشیر نے کہا کہ صرف پیداواری صلاحیت بڑھانے کی بجائے ویلیو ایڈیشن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سی ای او لکی سیمنٹ محمد علی ٹبہ نے کہا کہ فوڈ انفلیشن کم آمدنی والوں کیلئے سنگین مسئلہ،حکومت نے زبردست فیصلے کئے ، انڈسٹریز کو فائدہ ہوگا۔ چیئرمین عارف حبیب گروپ عارف حبیب نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ نئی انوسٹمنٹ کا فقدان اور روزگار کے مواقع میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا ہے۔ ماہر معیشت محمد سہیل نے کہا کہ حکومت ترجیحات واضح رکھتے ہوئے معاشی بفرز مضبوط بنانے پر توجہ دے۔ پروفیسر آئی بی اے کراچی عمار حبیب خان نے کہا کہ درمیانی آمدنی والی معیشت کو ترقی دینے کیلئے سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب کم از کم 30فیصد ہونا ضروری ہے۔ وہ جیو کی خصوصی نشریات گریٹ ڈیبیٹ میں گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق جیو نیوز کی اسپیشل ٹرانسمیشن ’گریٹ ڈیبیٹ‘ کے میزبان شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ چار سال سے حکومت پر بہت زیادہ تنقید ہوتی ہے اورجو بجٹ پیش کیاجاتا ہے اس پر تنقید ہوتی ہے اور جو پہلے سے ٹیکس دیتے ہیں ان پر ٹیکس کا بوجھ اور زیادہ ڈالا گیا اور جو ٹیکس نہیں دیتے انہیں ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا گیا ۔اس بار ایسا ضرور ہورہا ہے کہ حکومت نے ریلیف فراہم کرنے کا آغاز کیا ہے کچھ حد تک ہی سہی مگر ریلیف کا آغاز کیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کیلئے اور ایکسپورٹ کیلئے وزیر خزانہ نے وعدہ کیا ہے کہ مکمل طور پر ایکسپورٹرز سے سپر ٹیکس ختم کردیا جائے گا۔حکومت معیشت کو ترقی کی جانب لے جانے کی کوشش کررہی ہے تاہم امکان ہے رواں مالی سال میں بھی مقررہ معاشی نمو کا ہدف حاصل نہ ہوسکے گا۔ چیئرپرسن پاکستان بزنس کونسل زیلف منیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ کی اچھی چیز یہ ہے سمت درست نظر آرہی ہے اورمعاشی استحکام سے آگے بڑھتے ہوئے پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کی جانب مرکوز ہے۔ حکومت نے تمام متعلقہ ہولڈرز کیساتھ مسلسل مشاورت اور رابطہ رکھا اور ان کے جائز مطالبات کو سنا گیا اور حتی الامکان انہیں حل کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ فارمل سیکٹر پر موجود ٹیکس کے اضافی بوجھ کو کم کرنے کی سمت میں پیشرفت کی گئی ہے اور تنخواہ دار طبقے کو دیا گیا ٹیکس ریلیف انتہائی ضروری تھا اور بعض شعبوں کیلئے سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ بھی ایک اہم اقدام ہے۔مجموعی طور پر بجٹ کی سمت درست ہے تاہم معیشت میں مزید بہتری کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں۔ٹیکس بیس میں توسیع،کاروباری ماحول میں بہتری ،توانائی کے شعبے میں اصلاحات ،ریگولیٹری اصلاحات،سرکاری اداروں کی نجکاری اور حکومتی اخراجات میں کمی جیسے اقدامات کی اب اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 5.7ٹریلین روپے غیر دستاویزی معیشت سے متعلق ہیں اور اگر سرمایہ کاری کیلئے موزوں حالات موجود نہ ہوں تو یہ لیکویڈیٹی موثر طور پر استعمال نہیں ہوپائے اور اصل مسئلہ پالیسی اور کاروباری ماحول کا ہے جس کے باعث دستاویزی معیشت کو وسعت دینا اور غیر دستاویزی معیشت کو کم کرنا انتہائی ضروری ہوجاتا ہے۔ پاکستان اس وقت 800 سے زائد مصنوعات عالمی منڈیوں میں برآمد کر رہا ہے۔
kk