ہرنائی(نامہ نگار)ماضی میں مسافروں اور تاجروں کی آوازوں سے گونجنے والا ہرنائی کا تاریخی ریلوے اسٹیشن اب ویرانی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس اسٹیشن اور ٹریک پر اربوں روپے خرچ کیے جانے کے باوجود یہاں ہر طرف خاموشی ہے۔ نہ ٹرین کی "پوں پوں" اور " چھک چھک ‘‘ سنائی دیتی ہے اور نہ ہی کھانے پینے کی اشیاء بیچ کر روزگار کمانے والے لوگ نظر آتے ہیں۔