پاکستان کے معروف گلوکار، اداکار اور موسیقار علی ظفر نے کینیڈا میں ایک تاریخی کنسرٹ کے دوران نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
کینیڈا کے شہر مسی ساگا کے مشہور مقام سیلبریشن اسکوائر میں ہونے والے اوپن ایئر کنسرٹ میں تقریباً 45 ہزار افراد نے شرکت کی، جسے منتظمین نے اس مقام کی تاریخ کا سب سے بڑا میوزیکل اجتماع قرار دیا ہے۔
منتظمین کے مطابق شائقین کی بڑی تعداد کی وجہ سے مجمع صرف سیلیبریشن اسکوائر تک محدود نہیں رہا بلکہ اطراف کی سڑکوں اور قریبی سینٹر کے احاطے تک پھیل گیا۔
یہ کنسرٹ علی ظفر کے روشنی ٹور 2026ء کے شمالی امریکا مرحلے کا اختتامی شو تھا، مفت اوپن ایئر پروگرام میں پاکستان، بھارت، بنگلا دیش اور جنوبی ایشیائی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی، بچوں، نوجوانوں، خاندانوں اور بزرگوں پر مشتمل متنوع مجمع نے پورے کنسرٹ کے دوران بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔
علی ظفر نے تقریباً 2 گھنٹے تک پرفارم کیا اور اپنے مشہور گانے رنگین، چھنو، مستی اور چل دل میرے سمیت 20 سے زائد گیت پیش کیے، ان کے نئے البم روشنی کے گانے روشنی، ماماسیتا اور رکسانہ بھی پہلی بار لائیو پرفارم کیے گئے۔
کنسرٹ کا یادگار ترین لمحہ اس وقت آیا جب علی ظفر نے اپنا مقبول گانا جھوم پیش کیا اور ہزاروں مداحوں نے اپنے موبائل فونز کی لائٹس روشن کر دیں، جس سے پورا مقام روشنیوں کے سمندر میں تبدیل ہو گیا۔
بعد ازاں علی ظفر اسٹیج سے نیچے اتر کر مداحوں کے درمیان بھی گئے، جس پر حاضرین نے زبردست جوش کا اظہار کیا۔
موسیقی کے ساتھ ساتھ علی ظفر نے اتحاد، ثقافتی شناخت اور باہمی احترام کے موضوعات پر بھی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب ایک انسانیت کا حصہ ہیں، دنیا کے کسی بھی کونے میں رہیں، اپنی جڑوں اور ثقافت پر فخر کرنا چاہیے، ایک دوسرے کے انتخاب اور آزادی کا احترام ہی ہمیں جوڑے رکھتا ہے۔
انہوں نے خواتین کے اپنے فیصلے خود کرنے کے حق، بچوں کے خوابوں کی حوصلہ افزائی اور خاندانوں میں بہتر رابطے اور سمجھ بوجھ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
کنسرٹ کے اختتام پر ہزاروں مداح علی ظفر کے ساتھ گاتے رہے اور منتظمین سمیت متعدد شرکاء نے اس شام کو مسی ساگا کی ثقافتی تاریخ کے یادگار ترین پروگراموں میں سے ایک قرار دیا۔