• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرجری کے دن کام کا مطالبہ، ملازم کی پوسٹ نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

ایک ملازم کی سوشل میڈیا پوسٹ نے ملازمین کے حقوق اور کام کے دباؤ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملازم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ریڈ اِٹ‘ پر دعویٰ کیا کہ ہنگامی سرجری کے دن بھی اس کے سینئر آفیسر نے اسے کام اور میٹنگ میں شرکت کے لیے کہا۔

ملازم معروف شخصیات کی تشہیری مہمات اور سوشل میڈیا ہینڈلز کا انتظام سنبھالنے والی کمپنی سے وابستہ ہے۔

اس نے بتایا کہ گزشتہ 1 سال کے دوران اس نے ایک دن کی بھی مکمل چھٹی نہیں لی، وہ ہفتہ وار تعطیلات، صبح، رات اور سفر کے دوران بھی کام کرتا رہا جبکہ اس کی آمدنی ٹیکس کٹوتی کے بعد تقریباً 13 ڈالرز فی گھنٹہ بنتی ہے۔

پوسٹ کے مطابق اچانک طبی مسئلے کے باعث اسے فوری سرجری کروانا پڑی تاہم اس کے باوجود سربراہ نے اسی دن میٹنگ میں شرکت کا مطالبہ کیا۔

ملازم کا کہنا ہے کہ سرجری کے بعد بھی مجھ سے غیر معمولی کام لیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے میں خود کو ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار محسوس کر رہا ہوں۔

اس پوسٹ پر متعدد صارفین نے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ملازم کو بہتر ملازمت تلاش کرنے اور اپنی صحت کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا۔

بعض افراد نے اپنی ملتی جلتی کہانیاں بھی شیئر کیں جن میں سرجری کے بعد بستر سے کام کرنے کے مطالبات اور علاج سے قبل مکمل اوقات کار کی پابندی شامل تھی۔

سوشل میڈیا صارفین کا اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ملازمین کی صحت اور بحالی کو ہر صورت ترجیح دی جانی چاہیے اور کام کے تقاضے انسانی حدود سے تجاوز نہیں کرنے چاہئیں۔

خاص رپورٹ سے مزید