اردو ریڈیو جرمنی اینڈ ویب ٹی وی کے زیرِ اہتمام برگرہاس ہاریم میں شاندار ادبی و ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں جرمنی بھر سے اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے افراد، خاندانوں اور کمیونٹی ممبران نے بھرپور شرکت کی۔
اتوار 14 جون 2026 کو ہونے والی تقریب کا آغاز معروف شاعر ن۔م۔ راشد کی شہرۂ آفاق نظم 'زندگی سے ڈرتے ہو' سے ہوا، جسے معروف سماجی کارکن، وکیل اور میڈئیٹر و ہر دلعزیز شخصیت کومل ملک نے نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا۔ کومل ملک نے پورے پروگرام کی نظامت کے فرائض بھی سرانجام دیے اور اپنی شاندار میزبانی کے ذریعے تقریب کے مختلف حصوں کو خوبصورتی سے یکجا رکھا۔
پروگرام کے منتظمین حسن رضا، عاطف عمران ڈار اور کومل ملک نے حاضرین کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر حسن رضا، جو ایک صحافی اور ادب سے گہری محبت رکھنے والی شخصیت ہیں انھوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ اور کمیونٹی میں ثقافتی سرگرمیوں کی اہمیت کو اپنے مخصوص لب و لہجہ میں متعارف کرایا۔ منتظمین نے بالخصوص عاطف عمران ڈار کی بھرپور معاونت اور کاوشوں کو سراہا، جن کی محنت اس کامیاب تقریب کے انعقاد میں چھلک رہی تھی۔
تقریب کے دوران مرحوم مومن عثمان کو خصوصی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جو گزشتہ سال ایک افسوسناک حادثے میں وفات پا گئے تھے۔ مومن عثمان اردو تھیٹر ٹیم کے ایک فعال اور باصلاحیت رکن تھے، جن کی خدمات کو شرکاء نے عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کیا اور ان کے لیے سورہ فاتحہ و دعائے مغفرت بھی کی۔
اس موقع پر حسن رضا نے اردو ریڈیو جرمنی اینڈ ویب ٹی وی کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ایک خواب کے طور پر شروع ہوا تھا جس کا مقصد جرمنی اور یورپ میں اردو زبان، ادب اور ثقافت کے فروغ کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔ آج یہ پلیٹ فارم مختلف ثقافتی، ادبی اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے کمیونٹی کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
پروگرام کا مرکزی حصہ اردو تھیٹر کی پیشکش 'ہوئے جو بیمار' تھا، جس کی تحریر اور ہدایت مہرین بتول نے دی جبکہ حسن رضا نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے فرائض انجام دیے۔ ڈرامے میں ماہم امتیاز، معیز ناصر، احمد مسعود، یش ہری چندن، مہرین بتول اور سواتی جین نے اپنی بہترین اداکاری کے ذریعے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔ ڈرامہ معروف ادیبوں مشتاق احمد یوسفی اور امتیاز علی تاج کی تحریروں سے ماخوذ تھا اور حاضرین کی جانب سے اسے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔
بعد ازاں معروف کامیڈین علی شان نے اپنے منفرد اندازِ مزاح سے محفل کو قہقہوں سے بھر دیا جبکہ حسن رضا نے عظیم شاعر فیض احمد فیضؔ کا منتخب کلام پیش کرکے ادبی ماحول کو مزید نکھار دیا۔
پروگرام کے دوران ایک انٹر ایکٹو کمیونٹی سیشن بھی منعقد کیا گیا، جس میں شرکاء نے اپنے خیالات، تجاویز اور تاثرات کا اظہار کیا اور کمیونٹی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے گفتگو کی۔ اس موقع پر معززین شہر میں سے جرمنی میں ڈاکٹرز کے تنظیم کی روحِ رواں ڈاکٹر تسنیم، معروف سیاسی شخصیت حافظ عبدالرحمٰن، معروف شاعر سید اقبال حیدر اور دیگر افراد نے پروگرام کے منتظمین بالخصوص کومل ملک، حسن رضا اور عاطف ڈار کی پرخلوص کاوش کو سراہا۔ اس تقریب میں پاکستانی قونصیلیٹ کی نمائندگی آمنہ صاحبہ اور رندھاوہ صاحب نے کی۔
شام کا اختتام معروف فنکار جوڑی بلوچ ٹوئنز (عادل بلوچ اور عاصم بلوچ) کی صوفی اور لوک موسیقی کی دلکش محفل سے ہوا۔ لیاری، کراچی سے تعلق رکھنے والے ان فنکاروں نے اپنی منفرد موسیقی اور روح پرور انداز سے حاضرین کو مسحور کر دیا۔
تقریب کے اختتام پر منتظمین نے تمام مہمانوں، فنکاروں، رضاکاروں، معاونین اور کمیونٹی ممبران کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں شرکاء کے لیے عشائیے اور ملاقات (میٹ اینڈ گریٹ کا اہتمام کیا گیا، جس نے مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور روابط کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کیا۔
اس پروقار تقریب کا اختتام انتہائی پُرتکلف پاکستانی روائتی کھانوں پر مشتمل بوفے ڈنر پر ہوا۔