• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی بجٹ کسی بھی ملک کی معاشی سمت کا تعین کرنے والی ایک اہم دستاویز ہوتا ہے جس میں حکومت نہ صرف آئندہ مالی سال کیلئے آمدن اور اخراجات کا تخمینہ پیش کرتی ہے بلکہ اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع، مہنگائی پر قابو پانے، برآمدات میں اضافے اور عوامی فلاح کے اہداف بھی متعین کرتی ہے۔ تاہم پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے وفاقی بجٹ میں پیش کئے گئے اہداف کو پورا کرنا حکومت کیلئے چیلنج بنتا جارہا ہے۔ اس بار بھی بجٹ سے ایک روز قبل حکومت نے مالی سال 2025-26 ءکا جو اکنامک سروے جاری کیا، اس میں حکومت بیشتر اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور موجودہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ 3.7فیصد رہی۔ حکومت نے شرح نمو میں کمی اور ہدف نہ حاصل کرنے کی وجہ امریکہ، ایران،اسرائیل جنگ کو قرار دیا۔ حکومت کا موقف تھا کہ خطے کی موجودہ صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ امریکہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستان سمیت کئی ممالک کی شرح نمو متاثر ہوئی۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 12جون کو قومی اسمبلی میں2026-27ءکا بجٹ اپوزیشن کے شور شرابے کے درمیان پیش کیا۔ اس موقع پر میںبھی بجٹ اجلاس کی کارروائی دیکھنے کیلئے پارلیمنٹ ہائوس کی مہمان گیلری میں موجود تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ ایسے موقع پر جب وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں وفاقی بجٹ پیش کیا جارہا تھا، اپوزیشن اراکین، وزیر خزانہ کے سامنے آکر نعرے بازی اور بجٹ پیش کرنے میں رکاوٹ ڈالتے رہے اور بجٹ پیش ہونے کے بعد بھی پی ٹی آئی اراکین اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپنی تقاریر میں بجٹ کے حوالے سے کوئی مفید مشورے نہیں دیئے بلکہ ان کی تقاریر عمران خان کی رہائی تک محدود رہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں ایک بار پھر اپوزیشن کو میثاق معیشت کی پیشکش کی، وہ اس سے قبل بھی اپوزیشن جماعتوں کو میثاق معیشت کی پیشکش کرچکے ہیں تاکہ تمام جماعتیں مل بیٹھ کر ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

حالیہ بجٹ میں حکومت نے جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح 4 فیصد رکھی ہے جو گزشتہ مالی سال 3.7 فیصد حاصل ہوا۔ ایران امریکہ امن معاہدے کے بعد حکومت کیلئے 4 فیصد جی ڈی پی کا حصول ایک آسان ہدف ہے تاہم غربت اور بیروزگاری میں کمی کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان متواتر 6 فیصد جی ڈی پی گروتھ حاصل کرے۔ بجٹ میں آئندہ مالی سال کیلئے 15200 ارب روپے ریونیو ہدف مقرر کیا گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 ءمیں ایف بی آر نے 13600 ارب روپے ریونیو حاصل کیا جو ہدف سے 860ارب روپے کم تھا تاہم آئندہ ریونیو ہدف 11.5فیصد زیادہ اور مناسب ہدف ہے۔ 2025-26 میں جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح 11 فیصد تک رہی جبکہ بھارت میں 18فیصد اور ترکیہ میں 13فیصد ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں غربت میں کمی کیلئے جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح کم از کم 15 سے 18فیصد کے درمیان ہونی چاہئے۔ ماضی میں وفاق ہمیشہ یہ شکایت کرتا رہا تھا کہ صوبوں کو NFC ایوارڈ دینے کے بعد اس کے پاس کچھ نہیں بچتا اور حکومت کے مجموعی اخراجات کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی ضروریات پر خرچ ہو جاتا ہے تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ اس بار دفاعی بجٹ اور قرضوں کی ادائیگی کیلئے صوبوں نے ایک میکنزم کے تحت 1225ارب روپے آئندہ 3سال کیلئے وفاقی حکومت کو دینے پر اتفاق کیا ہے جس سے وفاقی حکومت کی شکایت کا ازالہ ممکن ہے۔

پاکستان سمیت دنیا کی معیشت کیلئے یہ خبر خوش آئند ہے کہ ایران امریکہ طے پاگیا ہے جس کے نتیجے میں کچھ ہی دنوں میں آبنائے ہرمز کی بحری گزرگاہ مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔ اس پیشرفت سے دنیا بھر میں آئل کی قیمتیں جو 100ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی تھیں، اب 80 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہیں اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید کمی کا امکان ہے جس سے دنیا بھر کی معیشتوں میں بہتری کی امید ہے۔ ایسے میں جب پوری دنیا، ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس کے اہم کردار کا اعتراف کررہی ہے اور پاکستان، دنیا میں ایک اہم ملک بن کر ابھرا ہے، خلیجی ممالک پاکستان کو سیکورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی ممکنہ سفارتی کامیابیوں اور عالمی مقام کو بنیاد بناتے ہوئے معاشی اصلاحات پر توجہ دے اور اپنی پوزیشن کو اقتصادی اور تجارتی انقلاب میں تبدیل کرے کیونکہ پائیدار اقتصادی استحکام ہی کسی ملک کی سلامتی، خودمختاری اور ترقی کا ضامن ہے۔ اگر اس موقع کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک زیادہ مستحکم اور بااثر ریاست کے طور پر ابھرسکتا ہے۔

تازہ ترین