پاکستان بھی دنیا کے کئی ممالک کی طرح ایک ایسی خاموش جنگ لڑ رہا ہے جو سرحدوں سے شروع ہو کر شہروں، تعلیمی اداروں اور گھروں تک پہنچ چکی ہے۔ یہ جنگ منشیات کے خلاف ہے جس کے نشانے پر سب سے زیادہ ملک کی نوجوان نسل ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یو این او ڈی سی کی ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2025 کے مطابق دنیا بھر میں منشیات کی پیداوار، ترسیل اور استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور منظم جرائم پیشہ گروہ نئی منڈیوں کی تلاش میں ہیں۔
پاکستان جغرافیائی اعتبار سے افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی محل وقوع اسے ہیروئن، افیون اور مصنوعی منشیات کی عالمی ترسیل کے اہم راستوں میں شامل کرتا ہے۔
پاکستان میں نشے کا مسئلہ اب صرف ہیروئن یا چرس تک محدود نہیں رہا۔ ’آئس‘ (میتھ ایمفیٹامین) نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یو این او ڈی سی کا تخمینہ ہے کہ پاکستان میں تقریباً 76 لاکھ افراد کسی نہ کسی شکل میں منشیات استعمال کرتے ہیں اور ان میں بڑی تعداد 25 سال سے کم عمر افراد کی ہے۔
تعلیمی اداروں کے اطراف بھی منشیات فروشی کے نیٹ ورکس سرگرم ہیں۔ ویپ، نکوٹین پاؤچز اور آئس نوجوانوں میں نسبتاً آسانی سے دستیاب ہو رہے ہیں۔
ملک کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی مرکز کراچی بھی ڈرگ کارٹیلز کے نشانے پر ہے۔ کراچی میں منشیات بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے آتی ہے۔ منشیات انٹر سٹی بسوں، ٹرکوں اور مختلف سامان لانے والی گاڑیوں کے خفیہ خانوں کے ذریعے کراچی منتقل کی جاتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق آئس، کرسٹل اور کوکین چونکہ مہنگا نشہ ہے اس لیے اسکی مالیت اربوں تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم اس حوالے سے بھی کسی ادارے کے پاس اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔
منشیات کی ترسیل موٹرسائیکلوں، گاڑیوں پر کی جاتی ہے۔ منشیات سپلائرز کے کارندے ہر علاقے میں موجود ہوتے ہیں جو منشیات ڈیلر سے منشیات لیکر علاقوں میں فروخت کرتے ہیں۔ آن لان موٹرسائیکل اور رکشہ رائیڈرز، آن لائن فوڈ ڈیلیوری بوائز کے ذریعے بھی منشیات ترسیل کی جاتی ہے۔
منشیات فروشوں نے سوشل میڈیا پر مختلف گروپس بنا رکھے ہیں، خاص طور پر واٹس ایپ گروپس کے ذریعے آرڈر پر منشیات گھروں اور بتائی گئی جگہوں پر پہنچائی جاتی ہے۔ ڈانس پارٹیوں، فارم ہاؤسز میں ہونے والی پارٹیوں میں نوجوان نسل کو منشیات فروشوں کے کارندے منشیات فروخت کرتے ہیں۔ ڈرگ سپلائرز کے نیٹ ورک میں خواتین بھی شامل ہیں اور متعدد خواتین گرفتار بھی ہو چکی ہیں۔
تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان کو مد نظر رکھتے ہوئے کراچی پولیس کے ساؤتھ زون نے گزشتہ دنوں 22 جامعات اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کے تعاون سے ایک جامع انسداد منشیات پالیسی تیار کی ہے۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) ساؤتھ زون سید اسد رضا کے مطابق منشیات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مربوط، فعال اور دیرپا حکمت عملی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے یہ جامع پالیسی اپنائی گئی ہے تاکہ طلباء کو نشہ آور اشیا کے استعمال سے محفوظ رکھا جا سکے اور تعلیمی اداروں میں صحت مند، محفوظ اور منشیات سے پاک ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ پالیسی روک تھام، بروقت مداخلت، والدین کی شمولیت، بحالی، ادارہ جاتی جوابدہی اور قانون کے مؤثر نفاذ کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ زون کے مطابق اس پالیسی کا مقصد تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک بنانا، طلباء کو نشہ آور اور مضر اشیا سے محفوظ رکھنا اور منشیات کے جسمانی، نفسیاتی، سماجی اور قانونی نقصانات سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پالیسی کے اہداف کے حصول کے لیے تعلیمی اداروں، والدین، ماہرین صحت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایسے طلباء کی بروقت نشاندہی، رہنمائی، مشاورت اور بحالی کو بھی یقینی بنایا جائے گا جو مدد کے محتاج ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ پالیسی کے تحت منشیات فروشوں، سپلائرز اور جرائم پیشہ عناصر کو تعلیمی ماحول میں داخل ہونے سے روکنے کے ساتھ ساتھ ذمہ دار شہری بننے، صحت مند طرز زندگی اپنانے اور مثبت شخصیت سازی کو فروغ دیا جائے گا۔
اسد رضا نے بتایا کہ تعلیمی اداروں میں انسداد منشیات کمیٹیاں قائم کی جائیں گی جن میں اداروں کے سربراہان، اساتذہ، والدین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ڈی آئی جی کے مطابق ساؤتھ ڈسٹرکٹ پولیس نے پہلے ہی ’کیمپس سیکیورٹی اینڈ سبسٹنس ابیوز واچ‘ قائم کر رکھی ہے جس میں خواتین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں تاکہ تعلیمی اداروں کے اطراف نگرانی اور احتیاطی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
پاکستان میں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) منشیات فروشوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہے لیکن ماہرین کے مطابق صرف گرفتاریاں کافی نہیں ہے۔ اے این ایف، کسٹمز، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ منشیات فروشوں کے مالیاتی نیٹ ورکس کو بھی توڑا جا سکے۔
فارن پریس سینٹر امریکہ کی جانب سے منعقدہ ایک حالیہ رپورٹنگ ٹور کے دوران اس نمائندے کو امریکہ-میکسیکو بارڈر پر منشیات کارٹیلز کے خلاف امریکی کسٹم اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) کی جانب سے منشیات کی روک تھام کے لیے لیے جانے والے اقدامات جاننے کا موقع ملا۔ سی بی پی حکام کے مطابق سرحدی سختی نے انسانی اسمگلنگ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے لیکن منشیات کے طاقتور کارٹیلز ختم نہیں ہوئے۔ انہوں نے اپنے راستے، حربے اور کاروباری ماڈل تبدیل کر لیے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2023 میں جنوبی سرحد پر غیر قانونی داخلوں کی تعداد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی لیکن سال 2025 اور 2026 میں سخت اقدامات کے بعد یہ تعداد نمایاں طور پر کم ہو گئی۔ امریکی ایوان نمائندگان کی ہوم لینڈ سیکیورٹی کمیٹی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی عرصے میں سرحدی انکاؤنٹرز میں 76 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے سرحد پر قومی ایمرجنسی نافذ کی، فوجی معاونت میں اضافہ کیا، پناہ کے قوانین سخت کیے، ’کیچ اینڈ ریلیز‘ پالیسی محدود کی اور سرحدی نگرانی کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ صرف سخت پیغام نے بھی اسمگلروں اور کارٹیلز کے رویوں کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی بارڈر پٹرول کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں میں امریکا اور میکسیکو کی سرحد کے نیچے 200 سے زائد سرنگیں دریافت کی جا چکی ہیں۔ بعض سرنگوں میں بجلی کا نظام، ریل ٹریک، وینٹیلیشن، سیمنٹ سے مضبوط دیواریں اور نگرانی کے آلات نصب تھے۔ یہ سرنگیں لاکھوں ڈالر کی لاگت سے تعمیر کی جاتی ہیں۔ جون 2025 میں سان ڈیاگو کے قریب دریافت ہونے والی ایک سرنگ تقریباً دو ہزار فٹ لمبی تھی اور اس میں ریل سسٹم اور بجلی کی سہولت موجود تھی۔
امریکی حکام کے مطابق ایک حیران کن حقیقت یہ ہے کہ منشیات کی بڑی مقدار غیر قانونی راستوں سے نہیں بلکہ قانونی بارڈر کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے اسمگل کی جاتی ہے۔ گاڑیوں کے خفیہ خانوں، ٹرکوں، تجارتی سامان اور کنٹینرز میں چھپائی گئی منشیات جدید اسکینرز کے ذریعے پکڑی جاتی ہے۔
امریکی تحقیقی ادارے یو ایس اے فیکٹس کے مطابق 2026 میں ضبط ہونے والی فینٹانائل کا تقریباً 82 فیصد حصہ سرکاری پورٹس آف انٹری پر پکڑا گیا۔
بارڈر حکام کے مطابق کارٹیلز اب ڈرونز کے ذریعے نگرانی کرتے ہیں، جی پی ایس استعمال کرتے ہیں، انکرپٹڈ ایپس کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر انسانی اسمگلنگ کی تشہیر کرتے ہیں اور خفیہ مالیاتی نیٹ ورکس چلاتے ہیں۔ ان کا بجٹ بعض چھوٹے ممالک کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ بتایا جاتا ہے۔
دورے کے دوران حکام نے بتایا کہ ایریزونا اور کیلیفورنیا کی سرحد پر کارٹلیز اپنی کارروائیوں کا انداز بدل رہے ہیں۔ وہ منشیات کی اسمگلنگ کے لیے ڈرونز، زیر زمین سرنگوں، گاڑیوں میں خفیہ خانے اور جدید نگرانی کے نظام استعمال کر رہے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ اگرچہ کیلیفورنیا میں سب سے زیادہ پکڑی جانے والی منشیات میتھ ایمفیٹامین ہے تاہم فینٹانائل کی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیوں کے بعد کوکین کی اسمگلنگ نمایاں طور پر بڑھ رہی ہے۔
سان یسیدرو پورٹ آف انٹری پر بریفنگ کے دوران حکام نے بتایا کہ امریکا بھر میں کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کی جانب سے ضبط کی جانے والی تقریباً 60 فیصد منشیات صرف کیلیفورنیا میں پکڑی جاتی ہے۔ سال 2024 کے مقابلے میں 2025 کے دوران امریکا-میکسیکو سرحد پر کوکین کی ضبطیوں میں تقریباً 35 فیصد اضافہ ہوا۔
نوگالیس ایریزونا کے قریب سپروائزری بارڈر پٹرول ایجنٹ جوناتھن ہولوگ نے بتایا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کارٹیلز کی جانب سے محفوظ راستوں کے دعوے اکثر المناک انجام پر منتج ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایریزونا کا صحرائی علاقہ سرحد کے خطرناک ترین حصوں میں شمار ہوتا ہے۔ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے افراد کو بلند پہاڑی سلسلوں، گہری وادیوں، اچانک آنے والے سیلاب اور جان لیوا گرمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سان ڈیاگو سیکٹر بارڈر پٹرول کے حکام نے بتایا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں سرحد کے ساتھ 200 سے زائد سرنگیں دریافت کی جا چکی ہیں جن میں سے 100 سے زیادہ صرف نوگالیس کے علاقے میں پائی گئیں۔
امریکہ نے کارٹیلز کے خلاف اپنی حکمت عملی میں ٹیکنالوجی پر انحصار کیا ہے جس میں مصنوعی ذہانت، چہرے کی شناخت، لائسنس پلیٹ ریڈرز، نان انٹروسیو ایکسرے اسکینرز، ریڈیو فریکوئنسی شناختی نظام اور کے نائن یونٹس شامل ہیں۔
حکام کے مطابق مالیاتی نیٹ ورکس کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ ہوم لینڈ سیکورٹی، ایف بی آئی، سی بی پی، ڈی ای اے، مقامی پولیس اور انٹیلی جنس ادارے مشترکہ آپریشنز کرتے ہیں۔ ریئل ٹائم معلومات کا تبادلہ امریکی ماڈل کا اہم حصہ ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے دنیا کے بڑے منشیات کے راستوں میں شامل کرتی ہے۔ افغانستان دنیا میں افیون کی پیداوار کا بڑا مرکز رہا ہے جبکہ بلوچستان، پاک افغان سرحد اور بحیرہ عرب کے راستے اسمگلنگ کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔
پاکستان نے بھی پاک افغان بارڈر پر باڑھ کی تعمیر کی ہے اور سیکیورٹی اقدامات کو بہتر کیا ہے تاہم پاک افغان اور پاک ایران سرحدوں پر سینسرز، ڈرونز، نائٹ وژن، جدید اسکینرز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک پروفائلنگ جیسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی اور گوادر بندرگاہوں پر کنٹینر اسکیننگ، رسک مینجمنٹ سسٹم، کسٹمز اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے مشترکہ یونٹس کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔
منشیات کی سپلائی روکنے کے ساتھ ساتھ طلب کم کرنا بھی ضروری ہے جس کے لیے اسکولوں اور جامعات میں آگاہی مہم، بحالی مراکز میں اضافہ، ذہنی صحت کی سہولیات، والدین کی تربیت اور میڈیا مہمات ضروری ہیں۔
امریکا کا تجربہ یہ سبق دیتا ہے کہ سرحدیں بند کی جا سکتی ہیں، نگرانی سخت کی جا سکتی ہے، مگر کارٹیلز ختم نہیں ہوتے۔ وہ بدلتے ہیں، نئے راستے ڈھونڈتے ہیں اور نئی ٹیکنالوجی اپنا لیتے ہیں۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف منشیات پکڑنا نہیں بلکہ اس پورے نظام کو توڑنا ہے جو سرحدوں سے شروع ہو کر مالیاتی نیٹ ورکس، مقامی ڈیلرز اور بالآخر نوجوانوں کی زندگیوں تک پہنچتا ہے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے لیکن اب اسے ایک نئی اور خاموش جنگ درپیش ہے۔ اگر منشیات کی روک تھام کے لیے فوری، جامع اور مستقل اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران نہ صرف نوجوان نسل بلکہ قومی معیشت، صحت کے نظام اور سماجی ڈھانچے کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
یہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جنگ نہیں، بلکہ والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، میڈیا اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔