امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ معاہدے کو کانگریس میں جائزے کے لیے پیش کریں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی قانون ’ایران جوہری معاہدہ جائزہ ایکٹ‘ (Iran Nuclear Agreement Review Act) کے تحت ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی معاہدے کو 5 دن کے اندر کانگریس میں جمع کروانا ضروری ہے جہاں 30 دن تک اس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
حالیہ مفاہمتی یادداشت میں ایران پر بعض پابندیوں میں نرمی، تیل کے شعبے پر عائد امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی شقیں شامل ہیں، یہی وجہ ہے کہ کئی ارکانِ کانگریس اور اسرائیل نواز گروپوں کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ قانون کے دائرے میں آتا ہے۔
امریکی سینیٹر لِنڈسے گراہم سمیت متعدد قانون سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاہدہ کانگریس کو بھیجا جائے۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ موجودہ قانون کے مطابق اس معاہدے کا کانگریس میں جائزہ ضروری ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ابھی تک واضح نہیں کیا ہے کہ آیا وہ اس قانون پر عمل کرے گی یا نہیں۔
رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت حتمی معاہدہ نہیں بلکہ مستقبل کے مذاکرات کا فریم ورک ہے۔
ادھر ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے وقت کانگریس کے اختیارات کو نظر انداز کرنے والے حلقے اب جنگ بندی کے معاملے میں کانگریس کی شمولیت پر زور دے رہے ہیں جس پر سیاسی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔