• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ کہانی کراچی کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے پاکستانی نوجوان صالح آصف کی ہے جس نے نکسر کالج کراچی سے اے لیول کرکے Methamatics اور Programming میں مہارت رکھنے کی وجہ سے امریکہ میں دنیا کی معروف میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) میں داخلہ حاصل کیا اور 2018-22 کے عرصے میں کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن کی۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد صالح آصف نے اپنے 3دوستوں Michael Truell، Aman Sanger اور Arvid Lunnemark کیساتھ ملکر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی کرسر (Cursor) نامی کمپنی کی بنیاد رکھی اور AIمیں ایک ایسا ٹول بنایا جس نے کوڈنگ کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔ کرسر کمپنی نے نومبر 2022میں 2.3ارب ڈالر کی اسٹارٹ اپ میں سرمایہ کاری حاصل کی جسکی مالیت 29.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور آج یہ کمپنی دنیا کے بڑے بڑے اسٹارٹ اپس کو پیچھے چھوڑتی نظر آرہی ہے۔

قارئین! اسٹارٹ اپ اپنے پیروں پر خود کھڑے ہونے کا جذبہ اور بزنس کا منفرد آئیڈیا ہے جو بزنس اور مارکیٹ میں اپنی جگہ بناتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص روایتی انداز میں کپڑے کی دکان کھولتا ہے تو اسے کاروبار کہا جائے گا لیکن اگر کوئی نئی قسم کا کپڑا فروخت کرنے کیلئے جدید انداز میں اسے مارکیٹ کرتا ہے تو اسے اسٹارٹ اپ کہا جائے گا۔ اسٹارٹ اپ کیلئے انتہائی منفرد اور منافع بخش آئیڈیا پیش کرنا ہوتا ہے جسکی بنیاد پر بیرونی سرمایہ کار، سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ اسٹارٹ اپ کیلئے آپ کو مارکیٹ کی ریسرچ اور اپنے مقابلاتی حریفوں کی طاقت اور کمزوریاں جاننا ضروری ہیں جسکی بنیاد پر آپ اپنا آئیڈیا ڈیزائن کرتے ہیں۔ پاکستان میں

Daraz، Zameem.com Foodpanda ،Pak Wheels ، Careem، Bykea اور Grocerapp

سمیت جدید ٹیکنالوجی کی وہ اسٹارٹ اپ ایپس ہیں جنہیں پاکستان میں روزمرہ زندگی میں کامیابی سے استعمال کیا جارہا ہے۔ اسی طرح اے آئی ایڈٹنگ ٹولز میں دنیا میں 12 بہترین اے آئی ٹولز ایسے ہیں جو کام کو تیز اور آسان بناتے ہیں۔

2025ءمیں بہت سے ایسے اے آئی ٹولز متعارف کرائے گئے جو نہ صرف ہماری روزمرہ کی زندگی کو آسان بناتے ہیں بلکہ ہمیں ہزاروں گھنٹے بچانے میں مدد بھی دیتے ہیں۔ ان اے آئی ایڈیٹنگ ٹولز میں گوگل اے آئی اسٹوڈیو، جیمنائی، نوٹ بک ایل ایم، گاما، کرسر، نیپکن، اوٹر، پرپلیکسٹی، کومیٹ برائوزر، چیٹ جی پی ٹی، کلائوڈ اے آئی اور میٹا اے آئی قابل ذکر ہیں۔

پاکستانی نوجوان صالح آصف کی کمپنی کرسر کی سالانہ آمدنی ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے اور Forbes کے مطابق آج Nvidia، Adobe، Uber اور Shopify سمیت دنیا کی 50ہزار سے زائد نامور کمپنیاں اس AI کوڈنگ سافٹ ویئر پر انحصار کررہی ہیں۔ حال ہی میں ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے 60ارب ڈالر میں کرسر خریدنے یا 10 ارب ڈالر کی کمپنی میں پارٹنر شپ کی پیشکش کی ہے۔ کرسر سے پہلےان نوجوانوں کی ٹیم کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا اسٹارٹ اپ ماڈل انجینئرنگ ڈیزائن سے تعلق رکھتا تھا جو کامیاب نہیں ہوسکا لیکن اس کے باوجود ان نوجوانوں نے ہمت نہ ہاری اور کرسر سے اسٹارٹ اپ فنڈز کے ذریعے کامیاب AI کوڈنگ ٹول بنایا۔

اس اسٹارٹ اپ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں بلکہ پاکستانی ذہانت پر عالمی یقین کا ثبوت ہے جس سے کرسر کو دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹرز تک رسائی حاصل ہوجائے گی جہاں سے آنے والی نسل کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل تیار کئے جائیں گے یعنی ایک پاکستانی نوجوان مستقبل کی مصنوعی ذہانت کی سمت طے کرنے والوں میں شامل ہوچکا ہے جو ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔

صالح آصف کی طرح میرے پاس ایسی کئی مثالیں ہیں جس میں متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد افرادنے بیرون ملک جاکر محنت اور ذہانت سے کامیابیاں حاصل کیں اور ملک کا نام روشن کیا۔ ان میں امریکہ میں مقیم شاہد خان جن کا آٹو پارٹس بزنس سے تعلق ہے، کے بزنس کی مالیت 12ارب ڈالر سے زائد ہے۔ سر انور پرویز برطانیہ میں مقیم ہیں اور بیسٹ وے کیش اینڈ کیری کے علاوہ بینکنگ اور سیمنٹ کے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے بزنس کی مالیت 7ارب ڈالر ہے۔

قیصر یونس سلیکون ویلی امریکہ میں مقیم ہیں۔ گاڑیوں کے سافٹ ویئر بنانے کے شعبے سے وابستہ ہیں اور ان کے بزنس کی مالیت 1.5 ارب ڈالر ہے۔ صالح آصف امریکہ میںنئے پاکستانی نژاد ارب پتی ہیں جو کوڈنگ ٹول سافٹ ویئر سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے بزنس کی مالیت تقریباً 30 ارب ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ کراچی سے تعلق رکھنے والے میرے دوست انور جاوید ٹیکساس امریکہ میں تیل اور گیس کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور ان کا امریکی انتظامیہ میں بڑا اثر و رسوخ ہے۔ پاکستانی نوجوان صالح آصف کا مصنوعی ذہانت میں انقلاب ایک خبر نہیں بلکہ ایک سوال بھی ہے کہ کیا ہم اپنے ملک میں ذہین نوجوانوں کو ایسے مواقع اور سہولت فراہم کرسکتے ہیں یا وہ ہمیشہ بیرون ملک جاکر ہی اس طرح کے کارنامے انجام دیں گے۔

تازہ ترین