پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان برگن اسٹاک میں جاری تکنیکی مذاکرات میں تعطل آگیا ہے، پہلے وقفے کے بعد دوسرا دور شروع نہ ہوسکا۔
ایرانی وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد احتجاجاً شرکت سے انکار کردیا۔
سوئٹزرلینڈ کے ہرگن اسٹاک کی لیک لوزن سمٹ کے کانفرنس ہال میں سب سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سینئر محسن نقوی داخل ہوئے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ کانفرنس پہنچنے تو پاکستانی وفد نے ان کا استقبال کیا۔
امریکا اور ایران کے وفود اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کےلیے لیک لوزن سمٹ میں جمع ہوئے ہیں، اس موقع پر قطری وزیراعظم بھی کانفرنس ہال میں پہنچنے۔
دوسری طرف اسپیکر باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد بھی پاکستان کی میزبانی میں ہو رہے مذاکرات میں شرکت کےلیے کانفرنس ہال پہنچا تھا۔
مذاکرات میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، وزیراعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل عاصم منیر، ایرانی باقری قالیباف ، عباس عراقچی شریک ہیں۔
قالیباف کا ٹرمپ کی دھمکیوں پر امریکی وفد کے روبرو احتجاج
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد نے مذاکرات کے پہلے دور میں صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر امریکی وفد کے روبرو باضابطہ احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 80 منٹ تک جاری رہا، وقفے میں وفود نے داخلی مشاورت کی، اس دوران ایران نے قطر کے وفود سے بھی بات چیت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین کی جانب سے پاکستان کو مذاکرات کی سربراہی کی پیشکش کی گئی۔
پاکستان کے کردار کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے: جے ڈی وینس
اس موقع پر گفتگو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ پاکستان کے کردار کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے، ہم مستقبل کے لیے مزید بہتر کام کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امن کے لیے ایران کے مثبت کردار کے خواہاں ہیں، مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام ہماری ترجیح ہے، لبنان کی صورتحال پر تشویش ہے، امریکی صدر لبنان میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ہمیں متعدد مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کا اختیار دیا ہے، سوال یہ ہے کہ آیا ہم مشرق وسطیٰ میں تعلقات کو مستقل طور پر تبدیل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے کا سبب رہا ہے، پچھلے چند گھنٹوں میں ہم نے بہترین پیشرفت کی ہے، معاملات پر مثبت گفت و شنید کی ضرورت ہے۔