پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ ہر فارمیٹ کی ٹیم الگ کرنے کی طرف پہلا قدم ہے، یہ ابھی پہلا قدم ہے، ہر فارمیٹ کی ٹیم الگ ہو سکتی ہے۔
لاہور میں ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا ہے کہ فوری طور پر ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کی ٹیمیں تو آپ کو الگ الگ کرنا ہی پڑیں گی، ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
انہوں نے کہا کہ فارمیٹ کی بنیاد پر سینٹرل کنٹریکٹ دینے سے قبل کچھ کھلاڑیوں کے ساتھ زیادتی ہو جاتی تھی، صرف ٹیسٹ کھیلنے والے کرکٹرز کا موازنہ ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے کرکٹرز سے کیا جاتا تھا، اب اگر کوئی صرف ٹیسٹ کھیلتا ہے تو اس کا مقابلہ ٹیسٹ کھیلنے والے سے ہو گا اور اس کی بنیاد پر معاوضہ ملے گا۔
عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کے اچھے پرفارمرز کو پہلے درجے میں 40 لاکھ ماہانہ ملیں گے جبکہ کم پرفارمنس والوں کو 30 سے 35 لاکھ روپے ملیں گے، ٹیسٹ اور ون ڈے کی کیٹیگری اور پھر ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی والوں کو بھی پرفارمنس کی بنیاد پر درجہ بندی میں معاوضہ ملے گا۔
ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے کہا ہے کہ 6 فرسٹ کلاس میچ کھیلنے والا ٹیسٹ کیٹیگری کے سینٹرل کنٹریکٹ کا اہل ہو گا، ٹیسٹ اور ون ڈے کیٹیگری کے لیے 4 فرسٹ اور 4 لسٹ اے میچز لازمی ہوں گے، ٹیسٹ والوں کو این او سی بیرونِ ملک 4 روزہ مقابلوں کے لیے ملیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ اور ون ڈے کیٹیگری والوں کو 1 فرنچائز این او سی مل سکتا ہے، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کیٹیگری والوں کو 2 لسٹ اے میچز اور 10 ٹی ٹوئنٹی کھیلنا ہوں گے جبکہ 2 این او سی ملیں گے، صرف ٹی ٹوئنٹی والوں کو ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کھیلنا لازمی ہو گا، اس کے علاوہ فرنچائز کرکٹ کھیل سکتے ہیں، ٹیسٹ اور ون ڈے کیٹیگری کے پیسے 48 لاکھ تک جائیں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ کوشش یہ ہے کہ تینوں فارمیٹ پر 1 جیسا فوکس نہ ہو بلکہ آپ جس کیٹیگری میں ہیں اسی پر آپ توجہ مرکوز کریں، ہم کھلاڑیوں کو مجبور کریں گے کہ جو آپ کا فارمیٹ ہے اس پر رہیں، جو کھلاڑی ٹیسٹ کے ہیں وہ ٹیسٹ کو دیکھیں، ٹیسٹ میں ہمارا برا حال ہے، یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ آپ تین چار سال ٹی ٹوئنٹی کھیلتے رہیں اور اچانک ٹیسٹ میں آ جائیں، ماننا پڑے گا کہ آپ ٹیسٹ میں 25 اوورز نہیں کر سکتے۔
عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ سب سے اہم ڈی کیٹیگری ہو گی، ان پر سب سے زیادہ توجہ ہو گی، ڈی کیٹیگری میں 16 سے 20 کھلاڑی ہوں گے، شروع سے ان کو فارمیٹ کے مطابق لے کر چلیں گے۔
ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس نے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں تبدیلیاں تو کرنا پڑیں گی، ابھی ایشیاء کپ کی ٹیم سب کے سامنے ہے، سینٹرل کنٹریکٹ کا مقصد ہی کمٹمنٹ ہے، کمٹمنٹ یہی ہے کہ آپ انٹرنیشنل کھیلیں گے اور ساتھ ڈومیسٹک بھی، اگر آپ فارمیٹ کے مطابق فرسٹ کلاس نہیں کھیلتے تو کنٹریکٹ نہیں ملے گا اور وہ ہولڈ پر چلا جائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کیٹیگریز سیلری کے لحاظ سے ہیں اور بتانا ہے کہ آپ نے اس پر فوکس کرنا ہے، اگر کسی بھی فارمیٹ میں کسی پلیئر کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ آ کر کھیل سکتا ہے۔