• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مذاکرات کے بعد ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان، اسلام آباد کی سفارتی اہمیت میں اضافہ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

ایران کے صدر مسعود پزشکیان آج اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں وہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدہ صورتِ حال کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد فریقین کے درمیان 60 روزہ فریم ورک پر پیش رفت سامنے آئی ہے جس کا مقصد ایک حتمی معاہدے کی جانب بڑھنا ہے۔

الجزیرہ نے ایرانی صدر کے پاکستانی دورے سے متعلق ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق اس دورے میں دونوں ممالک تجارت، توانائی، سرحدی سیکیورٹی اور علاقائی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر بات کریں گے۔ 

صدر پزشکیان وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، اس کے علاوہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قیادت بھی ان سے ملے گی۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے حالیہ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے جس کے باعث اس کی علاقائی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے اہم سفارتی شراکت دار قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ 2015ء کے جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر پابندیاں قبول کی تھیں تاہم 2018ء میں امریکا کے معاہدے سے نکلنے کے بعد صورتِ حال دوبارہ کشیدہ ہو گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر کا یہ دورہ ایران کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے اسے عالمی سطح پر سیاسی حمایت اور معاشی ریلیف کے امکانات مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ پاکستان کے لیے یہ خطے میں ایک ذمے دار ثالث کے طور پر ابھرنے کا موقع ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید