• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ساڑھے تین ماہ کی جنگ اور اس دوران عارضی جنگ بندی کے بعد بالآخر دنیا کو وہ خبر سننے کو ملی جس کا اسے شدت سے انتظار تھا۔ فرانس میں G7 اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں امریکہ ایران معاہدے پر ڈیجیٹل دستخط کئے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث معاہدے کی توثیق کی۔ بعد ازاں گزشتہ دنوں سوئٹزر لینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوا۔برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہونیوالے اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد مشترکہ بیان میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے 60 روزہ روڈمیپ اور اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا گیا جو سیاسی اور تکنیکی سطح کے مذاکرات کیلئے راہ ہموار کرے گی۔ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے، کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے ایک خصوصی رابطہ لائن کے قیام، ایران کی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات سے متعلق پابندیوں میں نرمی، بحری ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد اثاثے واگزار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مثبت اور تعمیری ماحول میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت سوئٹزرلینڈ میں پہلا مذاکراتی دور کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا ہے۔ اجلاس کے دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے مصافحہ کرنے اور تصاویر بنوانے سے گریز کیا۔ ایران کے عوام امریکی قیادت کو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور امریکی بمباری سے شہید ہونے والی 160سے زائد معصوم بچیوں کا قاتل ٹھہراتے ہیں۔ مذاکرات میں شریک ایرانی قیادت کو یہ خدشہ تھا کہ اگر وہ سوئٹزرلینڈ اجلاس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے مصافحہ کرکے وطن واپس لوٹیں گے تو انہیں ایرانی عوام کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکہ ایران معاہدے کا جہاں دنیا بھر میں خیر مقدم کیا جارہا ہے، وہاں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت دنیا بھر کے رہنمائوں نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا ہے مگر صہیونی ریاست اسرائیل اس پیشرفت پر خوش نہیں۔ اسرائیل کی آخری وقت تک یہ کوشش رہی کہ امریکہ ایران امن معاہدہ نہ ہونے پائے۔ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کے بعد اسرائیل میں صف ماتم بچھ گئی اور اسرائیلی وزیر قومی سلامتی نے یہ بیان دیا کہ ٹرمپ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے، اسرائیل کو نظر انداز کرکے معاہدہ کیا گیا جسکے ہم پابند نہیں۔ جواباً امریکی صدر نے اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسرائیل میری وجہ سے بچ گیا، اسرائیل کو اس معاہدے پر امریکہ کا مشکور ہونا چاہئے، اگر ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرلیتا تو اسرائیل دو گھنٹے میں صفحہ ہستی سے مٹ جاتا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسرائیل ہی وہ ملک تھا جس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے کیلئے اکسانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور امریکہ کو ایران میں رجیم چینج کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اسرائیل اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہوا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ صرف دو ممالک کے تعلقات کا معاملہ نہیں بلکہ اسکے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست پر مرتب ہوئے ہیں جس سے خطے میں امن، اقتصادی ترقی اور سفارتی تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔ دوسری طرف خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین اس معاہدے کے اثرات سے براہ راست متاثر ہوں گے۔ ایک جانب یہ ممالک ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کے امکانات دیکھ رہے ہیں جبکہ دوسری جانب وہ اپنی سلامتی کے حوالے سے خدشات بھی رکھتے ہیں اور یہ ممالک پاکستان کو سیکورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں جب پوری دنیا، ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسکے اہم کردار کا اعتراف کررہی ہے اورپاکستان، دنیا میں ایک اہم ملک بن کر ابھرا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ معاہدہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ خطے میں کشیدگی میں کمی پاکستان کیلئے معاشی اور تجارتی مواقع پیدا کرسکتی ہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں پر پیشرفت کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے مفادات بھی ایک پرامن اور مستحکم مشرقِ وسطیٰ سے وابستہ ہیں۔ اگر اس موقع کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک زیادہ مستحکم اور بااثرریاست کے طور پر ابھرسکتا ہے۔ امریکہ، ایران معاہدے کے بعد اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ اسرائیل اسے سبوتاژ کرنے کی سازش کرے گا، دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور سعودی عرب سمیت دوسرے مسلم ممالک پر اسرائیل کے ساتھ ابراہیمی معاہدے کیلئے دبائو ڈالیں گے جس کیلئے ہمیں تیار رہنا چاہئے۔ امریکہ ایران امن معاہدے میں پاکستان کے کلیدی کردار کو تاریخی سفارتکاری سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔ دنیا کی تاریخ جب لکھی جائے گی، امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کیلئے پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے کردار کو سنہری الفاظ میں رقم کیا جائے گا۔پاکستان نے عالمی امن کیلئے وہ کام کر دکھایا ہے جو ناممکن نظر آتا تھا اور عالمی ادارے بھی نہیں کرسکتے تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی بصیرت اور حکمت عملی نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر باوقار مقام دلایا ہے جس پر وہ نوبل امن انعام کے مستحق ہیں۔

تازہ ترین