ایران کی فوج کے اسٹریٹجک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ سینٹر کے سربراہ جنرل احمد رضا پوردستان نے کہا ہے کہ ملک کی عسکری حکمتِ عملی روایتی دفاعی پالیسی سے تبدیل ہو کر ایک جارحانہ نظریے (Offensive Doctrine) میں داخل ہو چکی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق جنرل پوردستان نے کہا ہے کہ نئے عسکری نظریے کے تحت پیشگی کارروائیوں (Preemptive Operations) کی بھی گنجائش موجود ہے اور اگر قومی مفاد کا تقاضہ ہوا تو ایران نامعلوم محاذوں پر کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو غیر متوقع طور پر حیران کر سکتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی مسلح افواج نے ابھی تک اپنی تمام عسکری صلاحیتوں کو استعمال نہیں کیا اور ملک کے پاس مزید قابلِ ذکر دفاعی اور عسکری وسائل موجود ہیں۔
جنرل پوردستان نے لبنان کے عوام کے دفاع کے لیے بھی ایران کی مکمل تیاری کا اظہار کیا ہے۔
ماضی میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے دور میں ملکی فوجی پالیسی کو اسٹریٹجک صبر (Strategic Patience) کہا جاتا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس حکمتِ عملی کا مقصد براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے سوچ سمجھ کر اور محدود ردِعمل کے ذریعے دشمن کو باز رکھنا تھا۔
ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتِ حال کے بعد تہران نے اب اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اب ملک فعال اور غیر معمولی دفاع (Active and Unprecedented Deterrence) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت ایران نے خطے میں امریکی مفادات اور اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔