شاعر مشرق کا خواب ، تہران کو مسلمانوں کا سیاسی ، فکری اور روحانی مرکز دیکھنا، ملوکیت ، ڈکٹیٹرشپ ، افرنگ سے نجات حاصل کرنا ۔ ایران بزورِ بازو اُمت مسلمہ کو اقبال کے خواب کی تعبیر کی دہلیز تک لے آیا ہے ۔ بالآخر امریکہ کو ایران کے سارے مطالبات ماننا ہی پڑے ۔ اگرچہ مطالبات تو 21اپریل کو اسلام آباد میٹنگ میں ہی مان لئے گئے تھے مگر مفاہمتی یادداشت کی انٹرپرٹیشن اور وضاحت پر اختلاف تھا ۔
دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت (MOU) کے چار مطالبات کلیدی : نمبر 1، لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا مکمل اور فوری خاتمہ جبکہ جنوبی لبنان سے دو ماہ کے اندر مرحلہ وار اسرائیلی انخلا ہے ۔ نمبر 2 ، آبنائے ہرمز کی نقل و حمل اور انتظامات ایران کے پاس ، جو خطےکے دوسرے ممالک کے تعاون کیساتھ ملکر طے کریگا۔ نمبر 3 ، اقتصادی پابندیوں میں فوری نمایاں نرمی اور جلد از جلد خاتمہ مع 300 ارب ڈالر کا معاشی ریلیف پیکیج ، منجمد مالی اثاثوں کی بحالی کیلئے فوری جامع منصوبہ طے کیا گیا ۔ نمبر 4 ، خطے میں امریکی فوج میں بتدریج کمی اور بالآخر مکمل انخلا یعنی خطہ میں موجود 16امریکی اڈے بتدریج ختم کرنا ہونگے ۔
اسرائیل امریکہ کے بغیر ایران پر حملہ کرتا تو بمشکل ایک ہفتہ یا شاید دو ہفتے نکال پاتا ۔ جون 2025 ءکی12 روزہ جنگ نے یہی کچھ ثابت کیا ۔ اسرائیل 23 جون کو امریکہ سے مدد کی بھیک مانگ رہا تھا ۔ جنگ بندی کے بعد صدر ٹرمپ نے یہی کچھ فرمایا ’اگر امریکہ اسرائیل کی مدد کو نہ پہنچتا تو ایران اسرائیل کو تباہ کر چکا تھا‘۔ آنیوالے دنوں میں امریکی فوج پیچھے ہٹ جائیگی ۔ 24/7چلنے والے فعال امریکی آپریشن سینٹرز بند کر دیئے جائیں گئے ۔ امریکی فضائی جنگی کمان ( تمام طیارے ) ، امریکی بحری بیڑے ، سنٹرل کمانڈ ہیڈکوارٹر سب نے واپس امریکہ جانا ہے۔ امریکی فوج کی واپسی کیساتھ ہی اسرائیل اپنا حفاظتی حصار کھو چکا ہوگا ۔ چنانچہ’ گریٹر اسرائیل ، معاہدہ ابراہیم ‘سب کچھ تتربتر، اسرائیل کا وجود خطرے میں رہیگا۔ اسرائیل ایران کیساتھ دوبارہ تنازع کھڑا کرنے کی جرأت ہی نہیں کرئیگا ، جبکہ ایران دنیا کے نقشےپر طاقت بن کر اُبھر چکا ہے ۔ اسی پیرائے میں ایک دلیل مستحکم کرنا ہے کہ اسرائیل اور بھارت کی مسلمان دشمنی کسی ایک لیڈر یا حکومت کی مرہون منت نہیں ہے ۔ آج جو کچھ بحیرہ روم سے لیکر بحرہند ( بھارت) تک نسل کشی یا بے گناہ شہریوں کی اموات یا غزہ میں ( 30 ہزار بچوں کی شہادت ) یا مناب اسکول کے 168 معصوم بچوں پر وحشیانہ بمباری ، تباہی و بربادی کی 78سالہ تاریخ کےپیچھے مخصوص شخصیات یا نیتن یاہو اور مودی وجہ نہیں ، میرے نزدیک یہ دلیل ہی لغو ہے ، ایک متعصب نظریاتی سوچ کارفرما ہے ۔ بھارت میں مسلم کشی ، کشمیر پر قبضہ ،پاکستان دشمنی میں وزیراعظم مودی جو کچھ کر رہے ہیں ، 2لاکھ مسلمانوں کے قتل عام کا آغاز 1948 ءمیں ہوا ۔ 1948 ءمیں حیدرآباد دکن فساد ( جسٹس نہرو رپورٹ ) اس وقت مودی نہیں بلکہ نہرو حکمران تھا ۔ شیخ عبداللہ حکومت کو کشمیر ( 1953 ) میں ختم کرکے گرفتار کیا گیا ، تو حکمران نہرو تھا ۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت اندرا گاندھی وزیراعظم تھیں ناکہ مودی۔ بعینہ 1948 ءکو وزیراعظم ڈیوڈ بن گورین ( بابائے قوم ) سے لیکر نیتن یاہو تک 1948ءکی النکتہ( فلسطینی نسل کشی اور دیس نکالا) اسرائیل کے قیام سے پہلے کی قیامت ، تباہی ، آفت جو فلسطینیوں پر ڈھائی گئی وہ کسی طور غزہ کی نسل کشی تک ، اموات ، شہداء اور بے گھر فلسطینیوں کی گنتی کرنا ممکن نہیں ہے ۔ لبنان پر فوج کشی بھی 1948 سے لیکر آج درجن دفعہ ہو چکی ہے ۔ اسرائیل اور بھارت دو ممالک کی سرشت یعنی کہ DNA میں ، جن کی فکر جو نظریہ کے پس پردہ مسلمانوں کو ختم کرنا ، دیس نکالا یا غلام بنانا ہے ۔
بات مسلم ہو چکی کہ ایران نے 47سالہ معاشی مقاطعے ، بمباریاں، جنگ کی صعوبتیں اکیلے جھلیں ، آج مستفید پوری امت ہو رہی ہے ۔ 1982ءکے بعد اسرائیل نے لبنان پر جتنے حملے کئے ، بنیادی محرکات حزب اللہ کو کمزور کرکے ایران پر حملے کی تیاریاں تھیں۔ امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک کی کتاب ( 2005 ) میں پینٹاگون کی ایک پالیسی میٹنگ بارے بتایا کہ’ 7 اسلامی ممالک عراق ، ایران ، لبنان ، شام ، یمن ، سوڈان ، لیبیا کو غیرموثر یا ختم کرنا یا ٹکرے ٹکرے کرنا طے ہوا تو اسرائیل کی پہلی ترجیح ایران تھی جبکہ امریکہ بوجوہ عراق سے آغاز کرنا چاہتا تھا‘ ۔ 2006 کی 34 روزہ اسرائیل لبنان جنگ کا مقصد بھی حزب اللہ کو کمزور کرکے ایران پر حملہ کرنا تھا ، حزب اللہ نے تارے دکھا دیئے ۔ عرصہ سے اسرائیل حزب اللہ ، حوثی ، حماس کو اپنے نشانے پر لے چکا تھا تاکہ انکو کمزور کرکے ایران پر فتح یقینی بنائی جائے ۔ اکتوبر 2024 ءمیں جب حزب اللہ قیادت بڑی تعداد میں شہیدہوئی تو اسرائیل نے 2025ءمیں ایران پر حملہ کرنے کا پلان بنا لیا ۔ 12 جون 2025 کا حملہ اسی زُعم میں کیا گیا کہ حماس اور حزب اللہ کمزور ہو چکی ہیں ۔ امریکہ نے حوثیوں کیخلاف اسڑائیکس کرکے انکو کمزور کرڈالا ہے ۔ چنانچہ جون2025 کی 12روزہ جنگ میں ایران کی شکست یقینی نظر آرہی تھی ،الحمدللہ ایران نے اسرائیل کےچودہ طبق روشن کر دیئے ۔
اسرائیل اکیلا ایران کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھا ۔ اگلے مرحلہ میں امریکی صدر کو بار بار سبز باغ دکھا کر اُکسایا ، 2 دن میں وینزویلا جیسی کامیابی کا مژدہ سنایا، صدر ٹرمپ کا دل پسیج گیا ۔ 28 فروری کو جب حملہ کیا تو کیک واک سمجھا گیا ، شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی ۔ ایران کی جیت کا نہیں مفاہمتی یادداشت کا تجزیہ کرنا ہے ۔ ایران کی مذاکراتی ٹیم کی دانائی ، دلیری ، حوصلہ مندی نے مبہوت کر رکھا ہے۔ وطن عزیز کے دانشوروں کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور ہڑبڑا کر مشورے دے رہے کہ ایران کو جو کچھ ملے قبول کرلے ۔ ایران کے عزائم مختلف ، فیصلہ کن مذاکرات کرنے تھے ۔ کبھی سوچا تھا کہ ایران جنگ کے پہلے چند دنوں میں ہی پو ری دنیا کی معیشت کو بدحال، بے حال کر دئیگا ۔ امریکہ 28 فروری تا 8 اپریل ایران کیخلاف کچھ نہیں استعمال کر سکا ، اس سے اگلا قدم حملہ ہی ہو سکتا تھا ۔ ایران نے تکلیف بربادی سہ لی ، ناکوں چنے چبوا دیئے ۔ایسے موقع پر پاکستان کیساتھ قطر ، سعودی عر ب ، عمان کے غیرمعمولی رول کی تعریف نہ کرنا ، بات ادھوری چھوڑنا ہے ۔چین تو پھر چین ، میرے نزدیک سارے مذاکراتی اسکرپٹ کی چین نے توثیق کر رکھی تھی ۔ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان لڑائی اور تناؤبطور بونس ملا ہے ۔ علاقائی جغرافیائی سیاست کروٹ لے چکی ہے ۔ الحمدللہ ! نیا مغربی ایشیا کا بلاک نیوورلڈ آرڈر کا اہم جزو بنے گا ، پاکستانی ثالثی ٹیم کو سیلوٹ ، آج پاکستان بیک وقت مغربی ایشیااور جنوبی ایشیا دونوں خطوں میں اہم مقام پر براجمان ہے ۔شکریہ ایران ! مرشد کا خواب سچ کر دکھایا۔ آج تہران رسمی طور پر اہل مشرق کا فکری ، نظریاتی مرکز بن کر اُبھرا ہے اور جس نے بدلنی ہے کرہِ ارض کی تقدیر ! ( ان شاء اللہ )۔