وسطی اور جنوب مشرقی یورپی ملک کروشیا میں ایک گھر کے اندرگھر وہاں کی ایک دلچسپ اور عجیب و غریب فن تعمیر کا نمونہ ہے، اس فن تعمیر میں موجود خامی لوگوں کو گزشتہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔
براچ جزیرے کے قصبے بول میں بحیرہ ایڈریاٹک کے ساحل کی یہ عجیب و غریب عمارت پہلی نظر میں تو ہاؤس اِن اے ہاؤس لگتا ہے۔ قصبے کے مرکز کے بہت قریب واقع یہ ایک پرانی اور نامکمل عمارت جیسی دکھائی دیتی ہے، لیکن جب آپ اس کے اندر قدم رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دراصل روسی گڑیاؤں کی طرح ایک ایسی ساخت ہے جس کے اندر ایک اور گھر موجود ہے۔
اوپر سے دیکھنے پر ایسا لگتا ہے جیسے ایک چھوٹے گھر کو نامکمل محل کی دیواروں کے اندر قید کیا گیا ہو اور مقامی روایت کے مطابق حقیقت بھی تقریباً یہی ہے۔ اب کوئی یقین سے نہیں جانتا کہ گھر کے اندر گھر کیسے وجود میں آیا، لیکن اگر سب سے مشہور کہانی پر یقین کیا جائے تو اس کی ابتدا ایک نیل ہاؤس کے طور پر ہوئی تھی، جس کا ضدی مالک اپنی جائیداد فروخت کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ انیسویں صدی کے اختتام پر معزز اور خوشحال سمندری خاندان ووکوویچ نے بول میں ایک شاندار رہائش گاہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور شہر میں زمین خریدنا شروع کی اور ہر پلاٹ کے لیے مارکیٹ سے قیمت کی پیشکش کی، جس کے باعث مقامی لوگ خوشی خوشی اپنی جائیدادیں فروخت کرنے لگے۔ تاہم مارکو نامی ایک شخص جسے لوگ سیلا کے لقب سے جانتے تھے نے اپنی جائیداد فروخت کرنے سے انکار کیا۔
وکوویچ خاندان نے مارکو کو اپنا گھر بیچنے پر آمادہ کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن وہ نہ مانا، جس پر اسے زبردستی وہاں سے نکالنے کے لیے سیلا کے گھر کے بالکل اردگرد چند میٹر کے فاصلے پر عظیم الشان محل کی تعمیر شروع کی گئی، اس امید میں کہ چاروں طرف سے گھِر جانے اور گھٹن کے احساس کے باعث وہ اپنا گھر بیچنے پر مجبور ہو جائے۔
تاہم جب وُکوویچ برادرز عمارت کی تکمیل کے لیے سامان خریدنے کے مقصد سے سمندری سفر پر تھے اچانک سمندر میں ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا گیا، لیکن روایت کے مطابق مارکو سیلا اپنےگھر کے اندر گھر والی رہائش گاہ میں زندگی بھر مقیم رہا۔
یہ یقین سے کہنا ممکن نہیں کہ اس داستان میں کتنی حقیقت ہے، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ یہ منفرد تعمیراتی عجوبہ آج براچ جزیرے کی اہم ترین سیاحتی کششوں میں شمار ہوتا ہے اور عام آدمی کی ثابت قدمی اور مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔