18جون کو ایران اور امریکہ کی طرف سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد اٹھائیس فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بادل بڑی حد تک چھٹ گئے ہیں۔ یہ تاریخ عالم کا شاید واحد معاہدہ ہے جس کی ہر سمت خواہش تھی کرہ ارض کے شرق و غرب اور شمال و جنوب میں ہر ملک نے اطمینان و مسرت کا اظہار کیا۔ کیونکہ اس جنگ نے دنیا کے ہر کونے میں آباد لوگوں کو تشویش میں ہی مبتلا نہیں کر رکھا تھا بلکہ ہر چھوٹے بڑے ملک کی معیشت اس جنگ کی زد میں تھی اور یہ جنگ کئی ممالک کی داخلی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہی تھی۔گو کچھ حلقوں کو اسلام آباد سے ایرانی وفد اور امریکی نائب صدر کی بغیر معاہدہ روانگی نے مایوسی سے دوچار کیاتھا لیکن تجزیاتی سائنس کے تناظر میں یہ بات بڑی حد تک عیاں تھی کہ پاکستانی کی طرف سے کی جانے والی ثالثی بے نتیجہ نہیں رہے گی۔ کیونکہ چند عوامل ایسے تھے جو واضح اشارہ دے رہے تھے کہ یہ مذاکرات بالآخر کامیاب ہوں گے۔ اسکے لیے سب سے پہلی دلیل یہ تھی کہ اس جنگ میں عسکری برتری کا حامل امریکہ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بغیر کسی پیشگی شرط کے امن مذاکرات کی غرض سے اسلام آباد پہنچا تھا جو بذات خود ایک اشارہ تھا کہ اب یہ مذاکرات کسی نہ کسی صورت نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔ کیونکہ جب بظاہر عسکری، اقتصادی اور سفارتی طاقت کی برتری رکھنے والا فریق مفاہمت کا عملی مظاہرہ کرے تو پھرامن مذاکرات میں دیر تو ہو سکتی ہے لیکن یہ بے نتیجہ نہیںرہ سکتے۔ساتھ ہی دوسرا عنصر یہ تھا کہ ان مذاکرات میں سہولت کار ملک پاکستان کی دیانت، اور پوزیشن بھی بڑی اہمیت کی حامل تھی۔ان دونوں ممالک کو پاکستان کی مخلصانہ سوچ پر ذرہ برابر شبہ نہیں تھا جسکی وجہ سے مذاکرات میں مثبت پیشرفت جاری رہی۔ مذاکرات کے ثمر آور ثابت ہونے میں تیسری وجہ ایران کی مستقل مزاجی اور استقامت تھی جو اپنی روز اول سے اپنائی ہوئی امن کی خواہش پر قائم رہا اور نقصان اُٹھانے کے باوجود ثابت قدمی دکھائی اور حملہ آور امریکہ اور اسرائیل کی گرتی ہو ساکھ کو مد نظر رکھ کر کسی تکبر کا شکار بھی نہ ہوا بلکہ اپنے پہلے روز سے اپنائے موقف کو سامنے رکھ کر مذاکرات کو آگے بڑھانے کی راہ پر گامزن رہا۔
پاکستان کا مصالحت کار ہونے کا مطلب تھا کہ دونوں فریقوں نے ایک ایسے مصالحت کار پر اعتماد کا اظہار کیا تھا جسکی غیر جانبداری پہ کوئی سوال نہ تھا اورجسکے مد نظر امن عالم کے سوا کوئی اور مقصد نہ تھا۔ ایک ایسے پیامبر کی موجودگی سے مفاہمت کا عمل شبہات اور بد اعتمادی سے محفوظ رہا- پاکستان کے دونوں ممالک کے ساتھ گہرے دوستانہ روابط کا نتیجہ یہ تھا کہ پاکستان فریقین کی خواہشِ مفاہمت کا ادراک کر سکتا تھا۔ پاکستان کی ثالثی مذاکرات کی سنجیدگی کو ثابت کرتی تھی ورنہ مذاکرات برائے مذاکرات کے لیے کوئی بھی روایتی مفاہمت کار آگے لایا جا سکتا تھا۔ لیکن کیونکہ جنگ کو امن میں بدلنے کیلئے ایک ایسا ماحول درکار ہوتا ہےجہاں تلخیوں سے صرفِ نظر اور زخموں کو بُھلا کر امن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو عبور کرنا پڑتا ہے اور یہ کام وہی ثالث کر سکتا ہے جو مشکل میں کبھی کسی کے ساتھ کھڑا ہو۔پاکستان نے پچھلی چار دہائیوں سے رقابت کی آگ میں گھرے ان دو فریقوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو جس توازن سے برقرار رکھا وہ بذات خود ایک بہت بڑی مہارت ہے اور یہ مہارت آج ان دونوں فریقین کیلئے سود مند ثابت ہوئی۔ ورنہ جس نہج پہ امریکہ اور ایران کی جنگ اور تعلقات میں بدگمانی پہنچ چکی تھی وہاں سے مفاہمت کا سفر طویل ہی نہیں بہت کٹھن بھی تھا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کی عدم موجودگی کی صورت میں دونوں ممالک کی طرف سے مفاہمت پر آمادگی شاید ناممکن ہوتی۔ گو پاکستان کیلئے ان مذاکرات کو بامقصد بنانے میں میدان جنگ میں پیش آنیوالے واقعات کا بھی بڑا عمل دخل ہے لیکن پاکستان کی سفارتکاری بھی بےمثال بن کر سامنے آئی۔
گو اس وقت اپنی اپنی داخلی رائے عامہ کے پیش نظر دونوں فریق ان مذاکرات کے نتیجے میں طے ہونے والے معاہدےکو اپنی فتح قرار دے رہیں جو ایک طرح سے دونوں فریقوں کی مجبوری بھی ہے۔ لیکن یہ آنے والا کل طے کرے گا کہ کس کو کس پر فوقیت رہی۔ گو اس جنگ میں ایک فریق کے پاس دوسرے فریق کو نقصان پہنچانے کی عسکری سکت زیادہ تھی لیکن دوسرے فریق کیلئے بھی ہرمز کی آبی گزرگاہ ایک ایسا ہتھیار ثابت ہوئی جس نے فریق مخالف کی ہی نہیں بلکہ اسکے حلیفوں کی نیندیں بھی اُڑا دیں اور اس طرح عسکری برتری اقتصادی مجبوریوں کے ہاتھوں بے بس ہو گئی جسکی وجہ سے اس جنگ کا امن میں بدل جانا ایک عالمی تقاضا بن کر اُبھرا۔لہٰذا پوری بین الااقوامی برادری کیلئے اس مشکل کی گھڑی میں پاکستان کا منظر عام پر آکر امن کی داغ بیل ڈالنا کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ اس مفاہمت کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ پاکستان کے کردار پر بھی مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالی گئی۔ پاکستان سے عداوت رکھنے والے پاکستان کو ملنے والے اس اعزاز پہ ماتم کناں تھے توعالمی سطح پہ مصالحت کاری کی شہرت رکھنے والے ممالک اس اعزاز سے محرومی پر پشیمان دکھائی دئیے اور پاکستان پر رشک کرتے نظر آئے شاید پچھتائے بھی ہوں کہ یہ اعزاز انکو کیوں نہ مل سکا اور کچھ نے یہ کہہ کر دل کو تسلی دی کہ پاکستان کو اتفاق سے یہ اعزاز مل گیا۔ لیکن ایک بات پر سب دنیا بہرحال متفق ہے کہ پاکستان نے یہ موقع جیسے بھی پایا لیکن پانے کے بعد اسکو جس انداز میں نبھایا یہ اپنی مثال آپ ہے۔