کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اگلے سال کا ترقیاتی پروگرام 720 ارب روپے کا ہے، کراچی کے لئے 206 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ سانحہ گل پلازہ کی رپورٹ جلد پبلک کر دی جائے گی کسی بھی صوبے میں بجٹ اپوزیشن سے پوچھ کر نہیں بنایا جاتا، ہمارے پاس پیسے نہیں تھے اس لئے پری بجٹ سیشن نہیں بلایا گیا، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں کیٹی بندر پر سندھ انٹرنیشنل فنانشل سنٹر بنانے کا منصوبہ ہے اس سال سندھ بھر میں 2009 اسکول مکمل کئے ہیں۔ سکھر بیراج کے کل 44 گیٹ تبدیل کئے ہیں۔ حکومت سندھ نے صوبے میں ریکارڈ ترقیاتی کام کئے ہیں ،پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ہے،حکومت وزیراعظم اور وزراءکو سمجھا جاتا ہے، صدر اور چیئرمین سینیٹ کو حکومت نہیں کہہ سکتے، ہم کسی سے یہ نہیں کہہ رہے کہ وہ حکومت سے علیحدہ ہوجائے مگر اتنا ضرور کہیں گے کہ کم از کم سندھ کے حقوق پر آواز ضرور بلند کی جائے ۔ معیشت کی بہتری کے لئے کٹے اور بچے دینے والی سوچ ہماری نہیںبلکہ اس سے تھوڑی اونچی ہے۔حکومت سندھ نے اپنے اخراجات کم کئے ہیں مگر تعلیم اور صحت کے بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ وہ اتوار کو سندھ اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر چھ روز سے جاری عام بحث کو سمیٹے ہوئے کلیدی خطاب کررہے تھے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے طویل خطاب میں حکومت سندھ کی کامیابیوں، پیپلز پارٹی کی جمہوریت کے لئے تاریخی قربانیوں، صوبے کے معاشی مسائل اور دیگر موضوعات پر تفصیل سے اظہار خیال کیا ۔