• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

122 ارب کی عالمی فنڈ امداد کے استعمال میں ناکامیوں کی نشاندہی

اسلام آباد (قاسم عباسی) آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے تازہ ترین آڈٹ انکشاف کے مطابق وزارت قومی صحت میں 122ارب کی عالمی فنڈ امداد کے استعمال میں ناکامیوں کی نشاندہی کی ہے ،یہ فنڈز جان لیوا بیماریوں کے خلاف لڑنے کے لیے دیے گئے تھے  ناک کے نیچے، رپورٹ میں وفاقی وزارتِ صحت کے ʼانتظامی نظام میں مسلسل بگاڑ اور نگرانی کی کمی کی تفصیلات شامل ہیں ،رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ سی سی ایم (کنٹری کوآرڈینیٹنگ میکانزم) کی مالیاتی نگرانی میں اے جی پی کی شمولیت کو لازمی قرار دیا جائے  آڈٹ رپورٹ کے مطابق   ایچ آئی وی، تپِ دق اور ملیریا جیسی جان لیوا بیماریوں کے خلاف لڑنے کے لیے ’’گلوبل فنڈ‘‘ کی جانب سے خاص طور پر دی گئی مجموعی طور پر 156.5 ارب روپے کی اہم بین الاقوامی امداد مکمل طور پر پٹری سے اتر گئی۔اس بھاری رقم میں 122 ارب روپے سے زائد کی وہ امداد شامل ہے جو یا تو ضائع ہو گئی، مل نہ سکی یا پھر اس کا انتہائی ناقص استعمال کیا گیا، جبکہ مزید 34.5 ارب روپے تعطل کا شکار خریداریوں اور تنظیمی و انتظامی فضول خرچیوں کی نذر ہو گئے۔ اس رپورٹ میں سال 2015 سے 2023 تک کے عرصے پر محیط صحت کی دیکھ بھال کے عالمی فنڈز اور گرانٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ آڈٹ کے انکشافات کے مطابق، شدید انتظامی غفلت اور ناکامیوں کے باعث ملکی نظامِ صحت سرمائے کی ایک اہم آمد سے محروم رہ گیا۔ ان میں سب سے بڑی وجہ 22.900 ملین امریکی ڈالر کے اضافی فنڈز کا موصول نہ ہونا تھا، جو اس وجہ سے ہوا کیونکہ حکام اضافی ’’کیٹلیٹک فنڈز‘‘ کے لیے ’’انٹیگریٹڈ فنڈنگ ریکویسٹ‘‘ جمع کرانے میں ناکام رہے تھے۔ براہ راست مالیاتی نقصانات میں درج ذیل شامل ہیں: 11.476 ملین امریکی ڈالر جو کہ امدادی سامان (ان-کائنڈ ڈسبارسمنٹس) کے ریکارڈ میں واضح تضاد کی صورت میں سامنے آئے؛ 2.442 ملین امریکی ڈالر جو ایک نجی پرنسپل ریسیپیئنٹ کے ممنوعہ ہتھکنڈوں اور کنٹری کوآرڈینیٹنگ میکانزم کی نگرانی میں ناکامی کی وجہ سے ضائع ہوئے؛ 2.197 ملین امریکی ڈالر (موجودہ شرحِ مبادلہ کے مطابق تقریباً 468 ملین روپے) جو عطیہ کنندگان کی فراہم کردہ ادویات کی میعاد ختم ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر برباد ہو گئے۔ آڈٹ کے انکشافات میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی فراہمی اور پروگرام پر عملدرآمد میں حائل شدید رکاوٹوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آڈٹ نے ’’گلوبل فنڈ پاکستان پروگرام‘‘ کے تحت ٹی بی کی ٹیسٹنگ اور علاج کی ناقص کارکردگی کے باعث 336.840 ملین امریکی ڈالر کے حیران کن نقصان کی نشاندہی کی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی ٹی بی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے مختص کردہ 3.680 ملین امریکی ڈالر کے فنڈز بھی غیر استعمال شدہ رہ گئے۔ مزید برآں، رپورٹ میں کئی بڑی آپریشنل (انتظامی و عملی) ناکامیوں کی بھی نشان دہی کی گئی ہے: اہم بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی تنصیب میں ناکامی: اقوامِ متحدہ کا ترقیاتی پروگرام 36پریشر سونگ ایڈسورپشن آکسیجن پلانٹس نصب کرنے اور انہیں فعال کرنے میں ناکام رہا، جس سے 10.780ارب روپے تعطل کا شکار ہو گئے۔

اہم خبریں سے مزید