کراچی (عاطف خان) ایران کی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026میں ناقابل شکست رہنے کے باوجود پہلے ہی راونڈ میں باہر ہوگئی، ایرانی ٹیم ورلڈ کپ کی ایسی بدقسمت ٹیم بن گئی جو کوئی میچ ہارے بغیر بھی راؤنڈ آف 32 میں نہ پہنچ سکی۔دیگر میچوں کے نتائج ایران کے حق میں نہ آنے کی بالخصوص آسٹریا اور الجزائر کا میچ ڈرا ہونے کی وجہ سے امید کی آخری کرن بھی دم توڑ گئی اور ایرانی ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی، وہ اپنے گروپ کی ابتدائی تین ٹیموں کی دوڑ میں جگہ بنانے سے معمولی فرق سے محروم رہ گئی۔ایرانی ٹیم کے کوچ غالنوئی نے کہا ہے کہ ہم سے اسکواڈ کی تیاری اور ٹریننگ کا وقت چھینا گیا، میزبان ملک نے ناانصافی کی۔ انہوں نےاپنی ٹیم کو ٹورنامنٹ کی "سب سے مظلوم" ٹیم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسے تاریخ میں لکھا جانا چاہیے ۔ ان تمام مسائل کے باوجود، ہم اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے اور دنیا کو ایرانیوں اور ہماری ٹیم پر فخر ہے۔ میں فیفا سے مطالبہ کرتا ہوں،مستقبل کے ورلڈ کپ مقابلوں میں میزبانوں کو کھلاڑیوں اور ٹیموں کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی اجازت نہ دیں۔ورلڈ کپ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ایران کا ورلڈ کپ ٹریننگ بیس (تربیتی مرکز) اریزونا سے میکسیکو کے شہر تيجوانا منتقل کر دیا گیا تھا، اور انہیں پورے سفر کے دوران سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ان کے ویزوں کی شرائط کے تحت، ایران کو اپنے پہلے دو میچوں سے صرف ایک دن پہلے امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی اور میچ والے دن ہی انہیں واپس جانا پڑا تھا۔گروپ میچز میں ایران کا نیوزی لینڈ اور بلجیم سے مقابلہ برابر رہاجبکہ مصر کیخلاف کامیابی کے بعد اس کے آگے بڑھنے کے امکانات روشن تھے۔