کراچی (اسٹاف رپورٹر) اپوزیشن لیڈر بلدیہ عظمیٰ کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ قابض میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا 60 ارب روپے کا بجٹ کامیابی کے طور پر پیش کرنا شہریوں کے ساتھ سنگین مذاق ہے، حقیقت یہ ہے کہ کراچی جیسے عظیم شہر کو کم از کم 300 ارب روپے کے ایمرجنسی بجٹ کی ضرورت ہے، صرف سعید غنی کی وزارت کی کرپشن کے 20 ارب کے ایم سی میں لے آئیں تو شہر کا کافی کام ہو جائے،میئر کراچی کو دو سال بحثیت ایڈمنسٹریٹر اور تین سال میئر کے طور پر ہو چکے ہیں پانچ سال ہو گئےان سے کام نہیں ہوتا بہتر ہے پورا کراچی ایف ڈبلیو او کے حوالے کردیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلدیہ عظمیٰ کراچی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7ہزار ارب روپے سے زائد ٹیکس دینے والے شہر کے ساتھ اس طرح کا سلوک ناانصافی ہے اور کراچی خیرات نہیں بلکہ اپنا آئینی اور قانونی حق مانگ رہا ہے ہمارامطالبہ ہے کہ انفراسٹرکچر سیس کی مد میں جمع ہونے والے 180 ارب روپے فوری طور پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے حوالے کیے جائیں۔