کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے انکشاف کیا ہے کہ پیپلزپارٹی نے ملتان کا پروجیکٹ سندھ میں شامل کر لیا، انہوں نے ضمنی بجٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سپلیمنٹری بجٹ میں بڑی گڑبڑ ہوئی ہے، 97کروڑ روپے آئی ٹی پارک پروجیکٹ ملتان بہاوالدین زکریا کیلئے مختص ہیں، سندھ کی عوام کے ٹیکس کا پیسہ کہاں استعمال ہو رہا ہے، کتنے پروجیکٹ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کراچی میں شروع کروا دیئے؟ انہوں نے کہا کہسعید غنی کہتے ہیں لاہور میں ایم کیو ایم نہیں تھی اس لئے امن تھا، ہم کہتے ہیں پیپلز پارٹی بھی نہیں تھی،پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قائم علی شاہ نے کہا کہ اٹھارہ برس کے دوران تاریخی کام ہوئے ہیں، کراچی کے وفاقی وزرابجلی کے مسئلے پر آواز اٹھائیں، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہت ترقی ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں اتوار کو آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر چھٹے روز بھی بحث جاری رہی قائد حزب اختلاف علی خورشیدی اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے بھی خطاب کیا قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا کہ ایک اچھے ماحول میں بجٹ پیش ہوا، حکومتی و اپوزیشن اراکین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ تیسری عالمی جنگ شروع ہوتے ہوتے بچی ہے، ایسے پیچیدہ ماحول میں بجٹ پیش کیا گیا۔ دنیا میں امن کے لئے پاکستان نے لائق تحسین کردار ادا کیا۔ انہوں نے رینجرز کے شہید جوانوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قطع نظر اس بحث کے کہ یہ بجٹ عام آدمی، مزدور، کسان، ماں، بہن کی امیدوں پر پورا اترتا ہے یا نہیں؟ یہ حقیقت ہے کہ بجٹ سندھ کے عوام کے اعتماد کو خسارے میں لے کر جا رہا ہے۔ خزانے خالی ہیں کوئی بات نہیں، حکومتی بصیرت خالی نہیں ہونی چاہئے۔ اس بجٹ میں ہمیں حکومتی بصیرت غائب نظر آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سعید غنی کہتے ہیں لاہور میں ایم کیو ایم نہیں تھی اس لئے امن تھا، ہم یہ کہتے ہیں کہ وہاں پیپلز پارٹی بھی نہیں تھی اس لئے لاہور میں امن تھا۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومتی اراکین میں سے الیکٹیبل ہٹا دیں تو حکومت ختم ہوجائے گی۔