سیتا روڈ (نامہ نگار:صداقت کاظمی) وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور خودمختار سرکاری اداروں میں بھرتیوں کے عمل میں سندھ کے آئینی کوٹے کی مسلسل اور مبینہ خلاف ورزی کا ایک بڑا انکشاف سامنے آیا ہے، وفاق کے مختلف مقتدر اداروں میں سندھ کی 4,500سے زائد کوٹہ اسامیاں خالی پڑی ہی، جس کے باعث سندھ کے ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور ڈگری ہولڈر نوجوانوں میں شدید بے چینی، وفاق سے دوری اور احساسِ محرومی سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے، اہم عہدوں پر سندھ کی موجودہ نمائندگی صرف6.9فیصد رہ گئی ، پنجاب کا 50 فیصد کوٹہ ہر مالی سال میں سو فیصد پورا کر لیا جاتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سول اسٹیبلشمنٹ کوڈ کے تحت وفاقی ملازمتوں میں صوبوں کا کوٹہ واضح طور پر مختص ہے۔ ملک بھر میں پنجاب کے لیے 50 فیصد، خیبر پختونخوا کے لیے 11.5فیصد، بلوچستان کے لیے 6فیصد جبکہ 7.5فیصد نشستیں اوپن میرٹ پر رکھی گئی ہیں۔ اسی آئین کے تحت سندھ کا مجموعی کوٹہ 19.4 فیصد ہے، جس میں دیہی سندھ (Rural) کے لیے 11.8 فیصد اور شہری سندھ (Urban) کے لیے 7.6فیصد حصہ مختص ہے۔ اس کے برعکس، سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکینِ قومی اسمبلی، سینیٹرز اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ گزشتہ 10سال سے وفاقی محکموں میں سندھ کی ہزاروں منظور شدہ اسامیاں جان بوجھ کر خالی رکھی جا رہی ہیں یا پھر سندھ کے کوٹے کی نشستوں کو "اوپن میرٹ" کا بہانہ بنا کر دوسرے صوبوں کے امیدواروں سے پُر کر دیا جاتا ہے۔