• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان، اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ اس وقت خطے کی ایک اہم عسکری قوت کے طور پر ابھرکر سامنے آیا ہے اور ’’معرکہ حق‘‘ میںپاکستان نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے بلکہ عالمی اور علاقائی سیاست میں پاکستان کا کردار بڑھتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی سرگرمیاں بین الاقوامی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنتی جارہی ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں اور کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے، وہ دنیا میں مرکز نگاہ بن چکے ہیں اور بھارت اور اسرائیل کی آنکھوں میں کھٹک رہے ہیں۔ معرکہ حق میں بھارت کی عبرتناک شکست کے بعد بھارت کو یہ یقین ہے کہ جنرل عاصم منیر کے ہوتے ہوئے وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا اور نہ پاکستان پر حملے کا سوچ سکتا ہے کیونکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری قیادت میں پاکستان اپنے دفاع کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بھارت نے پاکستان کے ساتھ اپنا رویہ بدلا ہے اور اطلاعات ہیں کہ اس حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹریک ٹو ڈپلومیسی کی خبریں گردش کررہی ہیں جو یقیناََ خوش آئند امر ہے۔

امریکہ ایران مفاہمتی معاہدے میں جنرل عاصم منیر کے ثالثی کردار کے بعد اب اسرائیل بھی ان کا دشمن بن کر سامنے آیا ہے کیونکہ اسرائیل، امریکہ ایران معاہدے کا سخت مخالف سمجھا جاتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ طے پائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی امریکہ ایران معاہدہ تکمیل کے مراحل تک پہنچتا ہے تو اسرائیل، لبنان پر حملہ کردیتا ہےتاکہ ایران، امریکہ سے امن معاہدہ کرنے سے باز رہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسرائیل ہی وہ ملک تھا جس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے کیلئے اکسانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور امریکہ کو ایران میں رجیم چینج کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اسرائیل اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہوا۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو بھی اسرائیل اپنے لئے خطرہ تصور کرتا ہے جسکے تحت سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور کیا جائیگا اور اس طرح پاکستان نے سعودی عرب کو نیوکلیئر چھتری فراہم کی ہے۔ اسرائیل کیلئے یہ خبر بھی کسی صدمے سے کم نہیں کہ پاکستان خطے کے ممالک سعودی عرب، ترکی اور مصر کے ساتھ نیٹو طرز پر چار فریقی اسٹرٹیجک اسلامی اتحاد کی تشکیل میں اہم کردار ادا کررہا ہے جسے اسرائیل ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کی راہ میں براہ راست خطرہ تصور کرتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جنرل عاصم منیر کو آئے روز ایک بہادر اور جرات مند فیلڈ مارشل کے لقب سے پکارنا بھی اسرائیل کیلئے جلتی پر تیل کا کام کررہا ہے۔ اس تمام پیشرفت نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اسرائیل کیلئے خطرناک بنادیا ہے۔ اسرائیل کو یہ یقین ہے کہ عاصم منیر کے ہوتے ہوئے وہ اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔

اسرائیل ماضی میں اپنے مخالفین کے خلاف بیرون ملک خفیہ کارروائیوں کے الزامات کا سامنا کرتا رہا ہے اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ جنرل عاصم منیر بھی موساد کی اس فہرست میں شامل ہوں جنہیں اسرائیل اپنے راستے میں رکاوٹ تصور کرتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں شہادت پر بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور اس اندوہناک قتل کے تانے بانے اسرائیل سے جاملتے ہیں۔ ابراہیم رئیسی ایران کے صوبے مشرقی آذربائیجان سے بذریعہ ہیلی کاپٹر واپس تبریز جارہے تھے۔ ہیلی کاپٹر میں ایران کے وزیر خارجہ امیرعبداللہیان، مشرقی آذربائیجان صوبے کے گورنر مالک رحمتی اور عملے کے ارکان سمیت 15 افراد سوار تھے اور تمام افراد حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ گوکہ حادثے کو موسم کی خرابی قرار دیا گیا مگر حیران کن بات یہ تھی کہ ایرانی صدر کے قافلے میں شامل باقی دو ہیلی کاپٹرز اُسی خراب موسم میں اپنی منزل تک کس طرح پہنچ گئے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر غیر ملکی دوروں سے اجتناب کریں کیونکہ اسرائیل کے پاس ایسی جدید ٹیکنالوجی موجود ہے جو کسی بھی طیارے کے سسٹم کو فضا میں تکنیکی طور پر جام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جسکے نتیجے میں طیارہ حادثے سے دوچار ہوسکتا ہے۔ پاکستان کو اپنی سیاسی و عسکری قیادت اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے سفارتی، انٹیلی جنس اور سکیورٹی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ صورتحال میںپاکستان اور امت مسلمہ کو جنرل عاصم منیر جیسے جرات مند عسکری قائد کی پہلے سے زیادہ اشد ضرورت ہے۔

تازہ ترین