اقبال راہی ایک فرد کا نام نہیں بلکہ وضع داری،حلیمی،رواداری ، شائستگی اور خوش دلی کی ایک روشن علامت ہیں۔وہ نہایت درویش صفت انسان، ملنسار شخصیت اور استادوں کے اُستاد شاعر ہیں۔انہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار نوآموز اور نوجوان مردو خواتین شعرا کو اوزان،عروض اور فنِ شاعری کے اسرار و رموز سکھائے ، انکی علمی ادبی اور تہذیبی رہنمائی کی اور انہیں ادبی محفلوں میں روشناس کرایا۔ ادبی دنیا میں اقبال راہی کا ایک وظیفہ اور تعارف یہ بھی رہا ہے کہ لاہور میں ہونیوالی تقریباََ اکثر ادبی تقاریب میں وہ اسٹیج پر بیٹھے افراد کے بارے میں فی البدیہہ اشعار پیش کرتے ہیں جبکہ کتابوں کی رونمائی اور شاعروں ادیبوں کے اعزاز میں منعقد ہونیوالی تقاریب میں وہ ہمیشہ نہایت محبت، خلوص اور قدر شناسی کے جذبے کے تحت ایک مرصع توصیفی اور دعائیہ نظم لکھ کر اپنی جیب سے فریم کروا کے اسٹیج پر پیش کرتے رہے ہیں۔ خود میری پہلی ملاقات بھی ایسی ہی تقریب میں ہوئی ، آج سے پچیس سال پہلےایک ہوٹل میں تنویر ظہور صاحب نے میری دو اردو اور دو پنجابی کی کتابوں کی تقریب رونمائی کا اہتمام کیا جس میں ملک معراج خالد بطور مہمان خصوصی جبکہ احمد ندیم قاسمی ، شہزاد احمد اور دیگر بڑے شاعر بھی شریک ہوئے۔ وہاں اقبال راہی نے ایک خوبصورت فریم میں جڑی ایک عمدہ نظم عنایت کی جو واقعی میرے مزاج اور شخصیت کی آئینہ دار تھی ۔ یہیں سے اُن سے اخلاص اور اپنائیت کا رابطہ ہوا وہ کئی بار اپنے بچوں کیساتھ میرے گھر تشریف لائے اور میں بھی ایک دو بار اُنکے گھر منعقدہ محفل میں حاضر ہوئی ۔مشاعروں میں سامعین میں بیٹھ کر مشاعرہ سننے اور محظوظ ہونیوالے شاعر نے کبھی ناقدری کا گلہ کیا، نہ زبردستی مشاعرے کا حصہ بننے کی کوشش کی ۔حالاتِ حاضرہ پر روزانہ قطعہ نگاری بھی انکی منفرد ادبی خدمات میں شامل ہے۔جس سے اُن کے گہرے سماجی اور سیاسی شعور کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔اقبال راہی وہ شاعرہیں جن کی شاعری اور شخصیت میں تضاد کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔ دونوں محبت، اپنائیت ، شائستگی اور انسان دوستی کا استعارہ ہیں۔ابھی تک انکے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ، سنجیدہ شاعری کے علاوہ لطیف طنزومزاح میں بھی بھرپور لکھتے ہیں۔اُن کے قطعات میں حالات کی سنگینی پرطنزیہ تیر بھی شگفتگی میں بھیگے دکھائی دیتے ہیں ، جو نہ صرف ذاتی زندگی بلکہ ملکی اور عالمی حالات کی عکاسی کرتے ہیں ۔انکے کلام اور ادبی خدمات پر تحقیقی کام بھی ہو چکا ہے، جو انکی منفرد ادبی اہمیت کا ثبوت ہے۔
زندگی نے انکو بڑے کڑے امتحانات سے گزارا ہے۔انکے بچوں میں چار بچے پیدائشی تھیلسیمیا کے مریض ہیں جن میں تین بیٹے اور ایک بیٹی بائیس سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ۔میں نے سب پیارے بچوں کو دیکھا ہے جونہی یہ بچے بیس کی حد پار کرتے اقبال راہی پل پل جینے مرنے لگتے۔لیکن اس نیک نیت اور درویش صفت شخص نے بچوں کو کبھی بوجھ سمجھا نہ قدرت سے آزمائش کی وجہ پوچھی۔گلہ کرنے کی بجائے وہ ہفتہ وار خون کے انتظامات اور دیگر آسائشوں کیلئے نہ صرف بھاگ دوڑ کرتے رہے بلکہ علاج کیلئے مختلف اسپتالوں کے دروازوں پر بھی دستک دیتے رہے اور کبھی صبر، حوصلے اور وقار کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ ابھی بھی اُن کا ایک بیٹا تھیلسیمیا کا مریض ہے اگرچہ وہ اُس خطرناک عمر کو عبور کر چکا ہے مگر اُسکا علاج اور دیکھ بھال تو ایک مسلسل ذمہ داری ہے، اتنی محنت کرنے اور غم جھیلنے والا بندہ آخر تھک بھی جاتاہے۔اقبال راہی کئی سال سے مختلف بیماریوں میں مبتلا رہے کئی بار تو اُن کے بچنے کی اُمید مدھم ہوگئی مگر بچوں کی ذمہ داری اُنھیں پھر قدموں پر کھڑا کر دیتی اور وہ دیگر کاموں کے ساتھ ادبی سرگرمیوں میں بھی شریک رہتے تھے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے مکمل طور پر بستر تک محدود ہو چکے ہیں۔اُنھیں گردوں کی بیماری نے نڈھال کر دیاہے۔اہلِ ادب، اہلِ دل ،کلچرل اداروں اور پنجاب گورنمنٹ سے درخواست ہے کہ اس عظیم ادبی شخصیت کیلئے علاج معالجے اور نقد امداد کا انتظام کیا جائے ، فوری مالی امداد اور بہترین طبی سہولیات اقبال راہی کو دوبارہ زندگی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتی ہیں ورنہ مایوسی اور بے بسی کے عالم میں دل سے نکلنے والی دعا آہ میں نہ بدل جائے۔ اپنے قلم سے دنیا میں خیر بکھیرنے والے ، اپنے خلوص سے محفلوں کو معتبر کرنےاور ہمیشہ دوستوں کی خبر گیری اور بیمار ادیبوں ،شاعروں کی تیمارداری کرنے والے اس بزرگ شاعر کو آج ہماری توجہ ، اپنائیت اور عملی مدد کی ضرورت ہے۔جلدی کیجئے!