2025 میں ٹیلی ویژن اداکارہ دیپیکا ککڑ نے انکشاف کیا تھا کہ ان میں اسٹیج 2 کے جگر کے کینسر کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے بعد ’سسرال سیمر کا‘ کی اداکارہ کے علاج کے حصے کے طور پر رسولی (ٹیومر) نکالنے کی سرجری کی گئی۔
تب سے وہ یوٹیوب پر مداحوں کے ساتھ اپنی صحت کے حوالے سے باقاعدگی سے اپ ڈیٹ شیئر کر رہی ہیں۔
حال ہی میں دیپیکا کے شوہر شعیب ابراہیم نے ایک اور اپ ڈیٹ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے علاج کے سلسلے میں ’انفیوژن تھراپی‘ (انفیوژن کے ذریعے دوا دینا) جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا بیٹا، روحان، دیپیکا کے جاری علاج سے کس طرح متاثر ہوا ہے۔
اسپتال سے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے شعیب نے دیپیکا کو بستر پر لیٹے ہوئے دکھایا، جہاں وہ تھکی ہوئی نظر آ رہی تھیں لیکن انفیوژن کے دوران مسکرا رہی تھیں۔
شعیب نے کہا، ’کچھ چیزیں سامنے آئی تھیں۔ پچھلی بار ان کے آئرن لیولز تھوڑے کم تھے، اس لیے وہ آئی وی (IV) کے ذریعے آئرن بھی دے رہے ہیں۔‘
دیپیکا نے اپنے مداحوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’’سب ٹھیک ہے، مجھے بس تھوڑا سا چکر آ رہا ہے کیونکہ انہوں نے مجھے پہلے ہی ایک دوا دی تھی جو غنودگی کا سبب بنتی ہے۔ بس اتنی سی بات ہے۔ ورنہ سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔‘‘
شعیب نے مزید بتایا کہ پچھلی بار ہمیں پوری رات کے لیے اسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا، لیکن اس بار ہم نے اسے ڈے کیئر پروسیجر کے طور پر کرنے کا انتظام کیا ہے تاکہ ہم آج رات گھر روحان کے پاس پہنچ سکیں۔ اب یہ ہر 20-21 دن کا معمول بن چکا ہے۔
اس سال کے آغاز میں رسولی نکالنے کی سرجری سے گزرنے کے بعد دیپیکا نے جون میں انکشاف کیا تھا کہ ڈاکٹروں کو دو نئی رسولیاں ملی ہیں اور انہوں نے امیونو تھراپی کروانے کا مشورہ دیا ہے۔
اداکارہ بہادری سے کینسر کا مقابلہ کر رہی ہیں اور ان کا خاندان مضبوطی سے ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
دیپیکا نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک ایئر ہوسٹس کے طور پر کیا تھا جس کے بعد انہوں نے ’نیر بھرے تیرے نینا دیوی‘ سے اپنے ٹیلی ویژن کیریئر کا آغاز کیا۔
تاہم، 2011 سے 2017 تک ’سسرال سیمر کا‘ میں سیمر کے کردار نے انہیں بڑے پیمانے پر پہچان دی اور انہیں گھر گھر کا جانا پہچانا نام بنا دیا۔
2018 میں انہوں نے ’بگ باس 12‘ میں حصہ لیا اور سلمان خان کے اس رئیلٹی شو کی فاتح بن کر ابھریں۔
اداکارہ اب کچھ عرصے سے شوبز سے دور ہیں۔ وہ 2025 میں ’سیلیبریٹی ماسٹر شیف‘ کے ساتھ ٹیلی ویژن پر واپس آئیں لیکن صحت کے مسائل کی وجہ سے انہیں شو ادھورا چھوڑنا پڑا۔