• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فالکرک میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر پر حملے کے بعد کمیونٹی میں تشویش، شہریوں کو احتیاط کی تلقین

— تصویر بشکریہ رپورٹر
— تصویر بشکریہ رپورٹر

اسکاٹ لینڈ کے شہر فالکرک میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر زہیب ارشد پر ہونے والے پُر تشدد حملے کے بعد پاکستانی اور مسلم کمیونٹی میں تشویش اور خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔

واقعے نے خاص طور پر اُن افراد میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا دیا ہے جو مذہبی یا ثقافتی شناخت کے باعث نمایاں نظر آتے ہیں، جیسے حجاب یا نقاب پہننے والی خواتین اور داڑھی رکھنے والے مرد۔

اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر زہیب ارشد اپنی گاڑی کھڑی کرنے کےبعد ایک دُکان کی طرف جا رہے تھے کہ 3 افراد نے انہیں گھیر لیا، مبینہ طور پر ان سے توہین آمیز الفاظ کہے گئے اور پھر ان پر جسمانی حملہ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے، جبکہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔

پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور حملے کے محرکات کے بارے میں حتمی فیصلہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

اس واقعے کے بعد کمیونٹی رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر رات کے وقت سنسان یا حساس علاقوں میں جانے سے گریز کریں، خصوصاً اگر کسی مقام پر کشیدگی یا احتجاج کی اطلاعات ہوں، خواتین، بالخصوص حجاب یا نقاب پہننے والی خواتین اور داڑھی رکھنے والے مرد اگر ممکن ہو تو رات کے وقت اکیلے سفر کرنے کے بجائے اپنے اہلِ خانہ یا دوستوں کے ساتھ جائیں۔

کمیونٹی رہنماؤں نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص کو نسلی یا مذہبی بنیاد پر ہراسانی، دھمکی یا حملے کا سامنا ہو تو فوری طور پر محفوظ مقام پر جائیں، پولیس کو اطلاع دیں اور اگر ممکن ہو تو واقعے کے شواہد، مثلاً تصاویر، ویڈیو یا گواہوں کی معلومات محفوظ رکھیں، نفرت انگیز جرائم کی بروقت رپورٹنگ ناصرف متاثرہ فرد بلکہ پوری کمیونٹی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کمیونٹی رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ خوف کے باعث معمولاتِ زندگی ترک کرنے کے بجائے احتیاط، باہمی رابطے اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے۔

کمیونٹی رہنماؤں کے مطابق اسکاٹ لینڈ کی اکثریت پُرامن اور قانون پسند شہریوں پر مشتمل ہے اور نفرت پر مبنی جرائم میں ملوث چند افراد کی کارروائیوں کو پورے معاشرے کی نمائندگی نہیں سمجھنا چاہیے۔

کمیونٹی رہنماؤں کی جانب سے مقامی مساجد، کمیونٹی تنظیموں اور سماجی اداروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ عوام میں آگاہی پیدا کریں، ایک دوسرے سے رابطہ مضبوط رکھیں اور کسی بھی مشتبہ یا نفرت انگیز واقعے کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد مل سکے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید