• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میری ایک دوست بینا شاہ نے کراچی سے مجھے شکایتاً لکھا اور موضوعات بھی اجاگر کیے کہ میں جو27سال سے اپنے کالموں میں اجاگر کرتی آئی ہوں۔کیا حاصل، وصول کیا۔

سب سے پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوںسے دیکھا جارہا ہے کہ جس منصوبے کیلئے بجٹ دیاجاتا ہے۔اس کے بارے میں سال کے آخر میں پتہ چلتا ہے کہ تمام رقم اسٹاف کے درمیان بانٹ لی گئی ہے۔خبر سال بھر گزرنے کے بعد سامنے آتی ہے۔ مزید پتہ چلتا ہے کہ یونٹ کے سربراہ بھی شریک جرم تھے اور اب ملک سے باہر عیش کررہے ہیں۔ سال بھر میں سامنے آنے والی خبروں اور مالیاتی کھابوں کو دیکھ کر بینا شاہ پوچھتی ہے کہ ہر سال جھوٹ اور کرپشن کو بڑھتا ہوا ہی دیکھ کر دل کرتا ہے کہ ملک چھوڑ کرکہیں اور چلے جائیں۔

مگر غریب سے اچانک امیر ہونے والوں میں خاکروب سے لیکر کلرک،کیشئر اور باس،بڑی ہٹ دھرمی سے ملک کو کھا رہے ہیں۔ کیا ہم اکیلے ہی ایماندار رہ گئے ہیں کہ ڈیم کی تعمیر ہوکہ پل بناناہو، سڑکیں اورعمارتیں، سب یا تو سال بھر میں مکمل نہیں ہوئے یاپھر مکمل ایسے ہوتے ہیں کہ اگلے سال مرمت کے لئے پھرفنڈز چاہئیں۔

بینا! یاد کروکئی سال سے بارش،مون سون خشک سالی، امراض کے ضمن میں فنڈز بہت دیے جاتے ہیں۔بینا! تم نے ٹھیک کہا کہ زمین کسی کی ہوتی ہے اور کوئی اور اس پر گھر، دکان یا ہوٹل کھول کر عیش کررہا ہوتا ہے۔ مالک کے کان میں بھنک پڑتی ہے وہ دوڑا دوڑا آتا ہے۔ کئی سال تک اپنی زمین کی ملکیت کا مقدمہ بھگتتا ہے یا پھر بیزار ہوکر، جب سب کچھ فائلیں اور کورٹ اور وکیل کے اخراجات کے باوجود ، کوئی حل نہیں نظر آتا، مایوس واپس چلاجاتا ہے۔ اب کیا کیا بتاؤں روز اشتہار آتے ہیں کہ سرنج بس ایک دفعہ استعمال کی جائے اور ہر روز سینکڑوں استعمال شدہ سرنجوں کا ڈھیر پکڑا جاتا ہے۔ہم کبھی دن بھر میں اسپتال، تعلیمی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور کسی باہر کے شخص سے بھی پوچھیںتو پتہ چل جائیگا کہ ہم لوگ بطور قوم جھوٹے ، نکمے اور بے ایمان ہیں۔ یہ لکھتے ہوئے مجھے شرم بھی آرہی ہے ۔ عصمت چغتائی سے کرشن چندر، منٹو اور یوسفی صاحب کی تحریروں کو بطور حوالہ دیکھ لیں۔ ہم تو وہ قوم ہیں کہ سیلاب کے عالم میں بہت سامان اکٹھا کرتے اور تقسیم کرتے ہیں،مگر وہ ہوتا کیا ہے پرانے لحاف، پتلی شبنمی قمیضیں اور اسکارف جیسے دوپٹے ۔یہی رویہ ہوتا ہے، دالوں، گندم اور چائے سمیت کھانے کی اشیا میں بھی، سب وہ چیزیں جو ہمارے کام کی نہیں ہوتیں۔

ہر روزٹی وی پر علماء آکر خوبصورت تقریریں کرتے ہیں وہ بھی دل میں سوچ رہے ہوتے ہیں کہ یہ سب گفتار ، عوام کی تسلی کے لئے ہے۔ آپ کو عبا پہنےبہت لوگ نظر آئینگے، یہ بھی بتائیں گے کہ کتنے حج کیے ہیں۔ ساتھ کے گھر میں بچے بھوکے اسکول گئے ہیں، کسی گھر میں بیمار پڑا ہے، تقریروں میں ان کا تذکرہ ہوگا مگر عملاً شرمندگی بھی نہیں ساری دنیا سے ادارے آتے ہیں، دیکھتے ہیںکہ کونسا پروجیکٹ مکمل ہوااور کون ساابھی نہیں ہوا۔ دراصل اور فنڈز چاہئیں۔یہ بھی سچ ہے کہ ساری قومیں جانتی ہیں کہ کتنا وزیر کھاتے، دورے کرتے اور اسٹاف خواتین وحضرات، سب کو ستارے والے ہوٹل میں ٹھہراتے بڑی گاڑیوں میں فیلڈ میں جاتے ہیں اور وہاں بھی خاص دیسی کھانا مل جائے تو ہمارے سرمیں پر لگ جاتے ہیں۔ شاید یہ سب اس لئے ہے کہ ہم اخلاقی طور پر بے ایمان، محنت سے عاری ،گفتار میں اعلان کہ ہم نے ایٹم بم بنایا ہے۔ ہم ایماندار نہ ہوتے توحج کیسے کرتے، بیٹیوں کی شادی میں لاکھوں لگاتے، کہتے کہ میں پنج وقتی نمازی ہوں، مشکل سے ایک ایک پیسہ جمع کیا تھا۔

پڑھنے والے، اس عبارت کو لغو اور بے معنی کہیں گے اب جبکہ آٹا بھی سو ڈیڑھ سو روپے سیر ہوگیا ہے۔ گنے کے دنوں میں گڑ اور شکر نہیں ملتی ہے۔ ہر شخص فقیر خود کو کہتا ہے۔ سچ بتاؤں سارے گزشتہ اور موجودہ وزیروں کے اثاثے دیکھیں۔ میں تویہ سب لکھتے ہوئے شرمندہ اور پسینہ پسینہ ہورہی ہوں۔ ہمارے وزیر اعظم تک تسلیم کرتے ہیں کہ بہت گھپلے ہوتے ہیں۔ اب تو غیر ممالک کی خواتین کے ساتھ بھی...بس اب لکھا نہیں جاتا۔

تازہ ترین