• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مذاکرات جاری، جنگ بندی ختم، ایرانی درخواست پر بات چیت کیلئے تیار ہیں، ٹرمپ، قطری وفد تہران میں، مصر کی بھی ثالثی کوششیں

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) خطے میں کشیدگی میں کمی کیلئے قطری مذاکرات کار تہران پہنچ گئے ہیں جہاں انہوںنے ایرانی حکام سے ملاقاتیںکی ہیں جبکہ مصر کی بھی ثالثی کوششیں جاری ہیں ‘چین نے امریکا اور ایران سے لڑائی روکنے کا مطالبہ کیاہے جبکہ اقوام متحدہ میں روس کی نائب سفیر ایوسٹیگنیوا نے کہا کہ برطانیہ‘فرانس اور جرمنی نے ایران کے شہری انفرااسٹرکچر پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی حوصلہ افزائی کی ہے‘ہرمز میں جہازوںپر دوبارہ حملوں کے بعد امریکا نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کردی ہیں جبکہ عرب امارات کیلئے فوجی ساز و سامان پر برآمدی کنٹرول نرم کر دیا‘امریکی محکمہ تجارت کے مطابق امارات نے جنگ کے دوران امریکی مفادات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے‘صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے جسے انہوں نے قبول کر لیا ہے تاہم انہوں نے واضح طور پر ایران کو بتادیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں اس کے انفراسٹرکچر پر کسی بھی قسم کے حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گااور اس سے اسرائیل بھی محفوظ نہیں رہے گا‘پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے رکن اسماعیل کوثری نے ایران پر حالیہ حملوں کے پیچھے متحدہ عرب امارات کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا اور خبردار کیا کہ یواے ای کو واشنگٹن کے ساتھ تعاون کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی ‘ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد قالیباف نے کہاہے کہ امریکا کے ساتھ تنازع کبھی بھی تہران کے ہتھیار ڈالنے پر ختم نہیں ہوگا‘ایران اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نےرواں ہفتے امریکا کے ساتھ ایسی انٹیلی جنس معلومات شیئر کی ہیں جن میں ایران کی جانب سے ٹرمپ کے قتل کی ایک نئی اور واضح سازش کا ذکر کیا گیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق وزیرخارجہ عباس عراقچی آج علاقائی صورتحال بالخصوص آبنائے ہرمز کی صورحال پر تبادلہ خیال کے لیے عمان کا دورہ کریں گے۔روس نے ایران پر نئے حملوں کے بعدبوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں نئے یونٹس کی تعمیراتی جگہ پر اپنے ملازمین کے پہلے گروپ کی واپسی کو معطل کر دیا ہے‘امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق قطر‘پاکستان اور دیگر علاقائی ثالث واشنگٹن اورتہران کے درمیان نئی کشیدگی کم اور جوہری معاہدے پر مذاکرات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘اقوامِ متحدہ میں نائب امریکی سفیر ٹیمی بروس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارت کاری کا دروازہ کھلا ہے لیکن کچھ شرائط کے ساتھ۔ترکیہ کے وزیرخارجہ ہاکان فیدان نے بتایا ہے کہ ترکیہ اور اسرائیل کے پاس کھلی جنگ شروع کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے‘نتن یاہو اور کچھ لوگوں کو، جیسے جیسے وہ انتخابات کے قریب پہنچتے ہیں ایک دشمن کی ضرورت ہوتی ہے۔ حماس، حزب اللہ اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کے بعد اب انہیں کسی اور دشمن کی ضرورت ہے تاکہ کوئی ان پر ترس کھا سکے۔ ادھر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے دوران فرانس نے ایران کی جانب سے گزشتہ چند دنوں میں پڑوسی ممالک اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق صدر ترمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے ہم سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ ہم نے اسے جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہےتاہم امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انہوںنے واضح طور پر ایران کو بتادیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں امریکی صدر نے نیویارک پوسٹ کوبتایا ہے کہ اگر ایران نے مجھے قتل کیا تومیں پہلے ہی ایسی ہدایات دے چکا ہوں کہ ایران پر ایسی بمباری کی جائے جو دنیا نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔ٹرمپ کے بقول وہ ایک طویل عرصے سے تہران کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔تہران برسوں سے انہیں مردہ دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ مجھے امید ہے کہ آپ مجھے یاد کریں گے ۔دریں اثناء قطرکے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن اور مصر کے وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمن نے امریکاایران مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک پر عملدرآمد کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید