برطانیہ بھر میں چاقو سے ہونے والی قتل کی وارداتوں میں گزشتہ دو برسوں کے دوران 27 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
ہوم آفس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2024 سے اب تک چاقو سے متعلق جرائم میں مجموعی طور پر 10 فیصد کمی آئی ہے، اسی عرصے کے دوران 1,900 سے زائد چاقو برآمد کر لیے گئے۔
اس کے علاوہ کاؤنٹی لائنز یعنی ایسے جرائم پیشہ نیٹ ورکس جو شہروں سے چھوٹے قصبوں تک منشیات کی ترسیل کے لیے بچوں اور کمزور افراد کا استعمال کرتے ہیں، ان میں سے 2,833 نیٹ ورکس بند کیے گئے جبکہ 7,381 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
ہوم آفس کے مطابق، کاؤنٹی لائنز کے خلاف جاری آپریشنز کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں چاقو کے حملوں کے باعث اسپتال پہنچنے والے زخمیوں کی تعداد میں 25 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس سے اندازاً ہر سال 840 چاقو زنی کے واقعات کی روک تھام ممکن ہوئی ہے۔
نیشنل پولیسنگ کے سربراہ، کمانڈر پال بروگڈن کا کہنا ہے کہ کاؤنٹی لائنز سے وابستہ مجرم انتہائی پرتشدد ہوتے ہیں اور کمزور افراد کا بے دریغ استحصال کرتے ہیں۔
کرائم اینڈ پولیسنگ کی وزیر سارہ جونز نے کہا ہے کہ حکومت کاؤنٹی لائنز کے مکمل خاتمے اور آئندہ دہائی کے دوران چاقو سے متعلق جرائم کو نصف تک کم کرنے کے لیے پر عزم ہے۔