آج کل ٹورزم کا سیزن ہے۔پاکستان کے شمالی علاقہ جات اپنی فلک بوس چوٹیوں، نیلگوں جھیلوں، سرسبز وادیوں اور دل کش مناظر کی بدولت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش رکھتے ہیں، مگر گزشتہ چند برسوں میں اِن حسین مقامات سے ایسی المناک خبریں بھی مسلسل موصول ہو رہی ہیں جنہوں نے سیاحت کی خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا۔ حال ہی میں ایک ریٹائرڈ نیوی افسر اور ان کے اہل خانہ کی سیف اللہ جھیل نزد مہا ڈنڈ جھیل کے پی میں دردناک اموات نے دل چھلنی کر دیا۔کہیں جھیل میں کشتی الٹ جاتی ہے، کہیں غیر معیاری لائف جیکٹس جان بچانے کے بجائے جان لے لیتی ہیں، کہیں چیئر لفٹ یا زپ لائن کی خرابی قیمتی انسانی جانیں نگل لیتی ہے، کہیں جھولوں کی ناقص تنصیب بچوں کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیتی ہے اور کہیں تربیت سے محروم آپریٹر حادثے کے وقت اپنی جان بچا کر فرار ہو جاتے ہیں جبکہ سیاح بے یار و مددگار رہ جاتے ہیں۔یہ حادثات محض اتفاقات نہیں بلکہ حفاظتی نظام، تکنیکی نگرانی، قانونی نفاذ اور اجتماعی ذمہ داری کی کمزوریوں کا آئینہ دار ہیں۔ دنیا بھر میں سیاحتی سرگرمیوں کیلئے بین الاقوامی حفاظتی اصول، معیاری آلات، باقاعدہ معائنہ، ہنگامی امدادی منصوبے اور تربیت یافتہ عملہ لازمی قرار دیے جاتے ہیں، مگر ہمارے ہاں اکثر مقامات پر حفاظتی انتظامات محض رسمی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔ رشوت اور سفارش حاوی ہو چکی ہے۔کسی بھی جھیل میں کشتی چلانے سے پہلے سب سے بنیادی شرط یہ ہونی چاہیے کہ ہر مسافر کے لیے بین الاقوامی معیار کی درست سائز کی لائف جیکٹ موجود ہو، جس کا باقاعدہ معائنہ کیا گیا ہو اور جس پر میعاد، برداشت کی صلاحیت اور منظوری کا نشان درج ہو اور تاریخ اختتام درج ہو۔ محض جیکٹ پہن لینا کافی نہیں، بلکہ اسے درست طریقے سے باندھنا بھی ضروری ہے۔ کشتی میں مسافروں کی تعداد اس کی مقررہ گنجائش سے ہرگز زیادہ نہ ہو، موسم کی خرابی، تیز ہوائوں یا طوفانی کیفیت میں کشتی رانی فوری طور پر معطل کر دی جائے، جبکہ ہر کشتی میں ریسکیو رِنگ، ریسکیو رسی، واٹر پروف ٹارچ، ابتدائی طبی امداد کا مکمل ڈبہ، ہنگامی رابطے کا ذریعہ اور مناسب آگ بجھانے والا آلہ موجود ہونا چاہیے۔اسی طرح چیئر لفٹ، کیبل کار، زپ لائن، پیرا گلائیڈنگ، ہاٹ ایئر بیلون، جیٹ اسکی، سی اسکوٹر، اے ٹی وی بائیک، فلائنگ اسکوٹر اور دیگر مہماتی سرگرمیوں کے لیے روزانہ تکنیکی معائنہ، ماہانہ انجینئرنگ آڈٹ اور سالانہ حفاظتی تصدیق لازمی قرار دی جانی چاہیے۔ ہر سواری پر زیادہ سے زیادہ وزن، عمر کی حد، طبی ممانعت اور حفاظتی ہدایات نمایاں انداز میں درج ہوں۔ کسی بھی مشین کو اس وقت تک استعمال کی اجازت نہ دی جائے جب تک اس کی بریکنگ، سسپنشن، رسیوں، کیبلز، موٹر، بیئرنگ، ہائیڈرولک اور برقی نظام کی مکمل جانچ نہ ہو جائے۔جدت ،وقت کا تعین اور ڈسپلے ضروری ہے۔ریسکیو سائنس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ حادثہ رونما ہونے کے بعد کارروائی سے زیادہ اہم حادثے کی پیش بندی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہر تفریحی مقام پر خطرے کی تشخیص ، حفاظتی تجزیہ (Safety Audit )، ہنگامی ردعمل کا منصوبہ ، انخلا کا طریق کار اور ریسکیو مشقیں باقاعدگی سے کرائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں بھی ہر بڑے سیاحتی مقام پر تربیت یافتہ غوطہ خور، واٹر ریسکیو ٹیم، ایمبولینس،معلومات اور سرویلنس ڈرونز، ابتدائی طبی امداد کا مرکز، آکسیجن، خودکار برقی جھٹکا دینے والا آلہ (AED)، سی سی ٹی وی نگرانی، وائرلیس کمیونیکیشن اور چوبیس گھنٹے فعال کنٹرول روم قائم ہونا چاہیے۔تفریحی مقامات اور حفاظتی اقدامات پر مشتمل بورڈ آویزاں کئے جائیں۔
حکومت کی ذمہ داری صرف سیاحتی مقامات کا افتتاح کرنا نہیں بلکہ ان کی مسلسل نگرانی بھی ہے۔ ہر کشتی، چیئر لفٹ، جھولا، زپ لائن اور مہماتی سرگرمی کے لیے لائسنس کا سالانہ تجدیدی نظام نافذ کیا جائے۔ غیر معیاری آلات ضبط کیے جائیں، حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے اور فوجداری کارروائی کرکے سزا دی جائے، جبکہ ہر حادثے کی آزاد تکنیکی تحقیقات کر کے اس کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے تاکہ مستقبل میں انہی غلطیوں کی تکرار نہ ہو اور عوام بھی مطلع ہوں۔سیاحتی کمپنیوں اور آپریٹرز پر لازم ہونا چاہیے کہ ان کا عملہ صرف مشین چلانا ہی نہ جانتا ہو بلکہ ابتدائی طبی امداد، سی پی آر، آبی ریسکیو، ہجوم کے انتظام، ہنگامی انخلا اور نفسیاتی معاونت کی باقاعدہ تربیت بھی حاصل کرے۔ حادثے کی صورت میں مسافروں کو چھوڑ کر فرار ہونے والے آپریٹر کے خلاف سخت سزائیں مقرر کی جائیںکیونکہ یہ محض غفلت نہیں بلکہ اخلاقی اور قانونی جرم ہے۔ہر خاندان کو سفر کے دوران اپنا ایک مختصر حفاظتی بیگ ضرور ساتھ رکھنا چاہیے جس میں ابتدائی طبی امداد کا سامان، جراثیم کش محلول، پٹیاں، درد کش ادویات، پانی سے محفوظ ٹارچ، سیٹی، پاور بینک، اضافی موبائل بیٹری، واٹر پروف موبائل کور، ہنگامی رابطہ نمبرز، موسم سے بچائوکا لباس، پانی، خشک خوراک اور بچوں کے لیے شناختی معلومات موجود ہوں۔ اگر آبی سرگرمی میں حصہ لینا ہو تو ممکن ہو تو اپنی معیاری لائف جیکٹ ساتھ رکھنا زیادہ محفوظ ہے۔یہ وقت صرف حادثات پر افسوس کرنے کا نہیں بلکہ حفاظتی ثقافت کو قومی رویہ بنانے کا ہے۔ جب حکومت سخت نگرانی کرے، ادارے دیانت داری سے ذمہ داریاں ادا کریں، آپریٹر انسانی جان کو منافع پر ترجیح دیں اور عوام اپنی حفاظت کے معاملے میں سمجھوتہ نہ کریں، تبھی پاکستان کے سیاحتی مقامات دنیا کے محفوظ ترین اور پرکشش مقامات میں شمار ہو سکیں گے۔ کیونکہ یاد رکھیے، سیاحت کی اصل کامیابی خوبصورت تصاویر نہیں بلکہ ہر مسافر کا بحفاظت اپنے گھر واپس پہنچنا ہے۔