کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان نے اپنی سب سے بڑی فعال چینی سرپرستی میں چلنے والی تانبے اور سونے کی کان سینڈک کیلئے اضافی سیکورٹی فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے برطانوی نیوز ایجنسی کو بتایا، "ہم نے صوبائی حکام اور تمام متعلقہ سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان کی تمام تنصیبات، عملے، لاجسٹکس اور نقل و حمل کے لئے تعیناتی کو مزید سخت کر دیں۔ طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی کمپنیوں کے زیرِ انتظام تمام منصوبوں کا تحفظ ہماری ترجیح ہے ، طلال چوہدری ،چین اور پاکستان پکے دوست ،ہر موسم کے اسٹرٹیجک شراکت دار ہیں۔ "طلال چوہدری نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کو جولائی کے اوائل میں کان کے آپریٹر کے خدشات موصول ہوئے تھے۔انہوں نے کہا، "پاکستان میں بین الاقوامی کمپنیوں کے زیرِ انتظام تمام منصوبوں کا تحفظ ہماری ترجیح ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ سائٹ تک جانے والی لاجسٹکس اور کارگو کی ترسیل کو اضافی سیکورٹی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں ، اداروں اور منصوبوں کے تحفظ کیلئے پاکستان کیساتھ مل کر کام کریں گے۔فنانشل ٹائمز نے بدھ کے روز قبل ازیں رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سینڈک کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کی وزارتِ توانائی کو خبردار کیا تھا کہ سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال سپلائی کے راستوں کو درہم برہم کر رہی ہے جس کی وجہ سے آپریشنز ایک ماہ کے اندر برقرار رکھنا ناممکن ہو سکتے ہیں۔