پاکستان کے فری لانسرز نے رواں مالی سال میں آئی ٹی برآمدات کی مد میں ایک ارب ڈالر کا سنگ میل عبور کر لیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً پچاس فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے، اور جو کل آئی ٹی برآمدات کا پچیس فیصد ہے۔ اگر غیر آئی ٹی خدمات اور فری لانسنگ سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ شامل کیا جائے تو یہ رقم تقریباً ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ تقریباً تیس لاکھ پاکستانی فری لانسنگ کرتے ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل افرادی قوتوں میں سے ایک ہے۔ اور یہی اصل مسئلہ ہے۔ اتنا شاندار عدد چھپنے کیلئےایک خطرناک حد تک آسان جگہ بن جاتا ہے۔فتح کے جشن پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں لیکن جس ایک ارب ڈالر کا ہم جشن منا رہے ہیں وہ زیادہ تر ان شعبوں میں کمایا گیا جنہیں جنریٹو مصنوعی ذہانت فعال طور پر ختم کر رہی ہے۔ ہم اس لہر کی چوٹی کا جشن منا رہے ہیں جو پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے متعلقہ منصوبوں پر کام کرنے والے فری لانسرز اب فی گھنٹہ چوالیس فیصد زیادہ کما رہے ہیں بہ نسبت ان کے جو ایسا نہیں کرتے۔ یہ ابتدا اپنانے والوں کے لیے کوئی بونس نہیں۔ یہ مارکیٹ کا ایک پورے پیشے کی نئے سرے سے قیمت مقرر کرنا ہے، اور ہمیں بتا رہا ہے کہ قدر پہلے ہی کہاں منتقل ہو چکی ہے۔ پاکستان کی فری لانس افرادی قوت انہی شعبوں میں مرکوز ہے جہاں اسے نہیں ہونا چاہیے تھا، مواد نویسی، ترجمہ، ڈیٹا انٹری، گرافک ڈیزائن اور ابتدائی سطح کی پروگرامنگ۔ یہ حجم پر مبنی شعبے ہیں، آسانی سے قابل رسائی شعبے ہیں، اور بالکل وہی شعبے ہیں جنہیں مصنوعی ذہانت سب سے پہلے نگل رہی ہے۔مرکزی دھارے کی جنریٹو مصنوعی ذہانت کے آنے کے بعد سے، بنیادی ’’ہمارے بارے میں‘‘تحریر کی طلب میں پچاس فیصد کمی آئی ہے۔ مغربی زبانوں کے ترجمے میں تیس فیصد کمی آئی۔ ڈیٹا انٹری اور سوشل میڈیا سے متعلقہ کام میں تیرہ فیصد کمی ہوئی۔ ابتدائی سطح کے کوڈنگ کے کام میں تقریباً بیس فیصد کمی آئی، جبکہ بعض پیمانوں کے مطابق ابتدائی سطح کے سافٹ ویئر کام میں کمی اس سے بھی زیادہ تیزی سے ہوئی ہے۔ یہ کوئی عارضی گراوٹ نہیں۔ دو ہزار بائیس میں فری لانس خدمات خریدنے والے نصف سے زائد کاروبار دو ہزار پچیس تک مکمل طور پر فری لانس کی خدمات بند کر چکے تھے، جبکہ اسی عرصے میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر کارپوریٹ اخراجات صفر سے بڑھ کر کل بجٹ کے تقریباً پانچ فیصد تک پہنچ گئے۔ گاہک اپنے AI اخراجات میں وقفہ نہیں لے رہے۔ انہوں نےاپنے کام کو مستقل طور پر گھنٹوں کے بجائے نتائج میں تولنا شروع کر دیا ہے۔
یہ وہ بات ہے جو ہمیں واقعی پریشان کرنی چاہیے۔ بھارت نے اپنی آؤٹ سورسنگ سلطنت BPOs اور کال سینٹرز پر تعمیر کی، وہی افرادی قوت اور کام پر مبنی ماڈل جس پر ہماری فری لانس معیشت چلتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس اب بھارت کی تقریباً تیس ارب ڈالر کی کال سینٹر صنعت کے پہلے درجے کے حجم کو تباہ کر رہے ہیں۔ بھارت کا ردعمل پرانے ماڈل کا دفاع کرنا یا اپنی سابقہ آمدنی کا جشن منانا نہیں تھا۔ وہ اسی افرادی قوت کو Data Labeling، Annotation اور مصنوعی ذہانت سے منسلک آپریشنز کی طرف موڑ رہا ہے۔ پاکستان کا اس کے مقابل اقدام کہاں ہے؟ ہمارے پاس تیس لاکھ فری لانسرز ہیں جو مصنوعی ذہانت کے باعث بے روزگاری کے خطرے سے دوچار ہیں، اور انہیں مصنوعی ذہانت سے متعلقہ کام، جیسے Annotation، تشخیص، Fine-tuning کی معاونت، مصنوعی ذہانت کے آلات اور Agent Orchestration کی طرف منتقل کرنے کا کوئی مربوط منصوبہ موجود نہیں۔ طلب موجود ہے،افرادی قوت بھی ہے حکمت عملی موجود نہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی رکاوٹ پاکستان کو دہائیوں کا بہترین ساختی موقع فراہم کر رہی ہے، اور بے فکری اسے ضائع کر سکتی ہے۔ برسوں تک بھارت، فلپائن اور ویتنام سے مقابلہ کرنے کا مطلب حجم پر مقابلہ کرنا تھا، مسابقتی نرخوں پر انجینئروں کی فوجیں۔ پاکستان کا چھوٹا اور منظم آئی ٹی شعبہ اس کھیل میں ساختی طور پر نقصان میں تھا جس کی پیمائش افرادی تعداد سے کی جاتی تھی۔ نتائج پر مبنی ترسیل نے کھیل کے اصول بدل دیے ہیں۔ جب گاہک ٹیم نہیں بلکہ نتیجہ خریدتا ہے۔نتائج پر مبنی ترسیل تبھی کارآمد ہوتی ہے جب نتائج دینے کی صلاحیت موجود ہو۔ یہیں پر یہ نظریہ زمین بوس ہو جاتا ہے۔ National AI Policy 2025 محض ایک دستاویز ہے۔ DigiSkills کورسز محض تعارفی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی وہ گہرائی نہیں پیدا کرتا جس کا یہ لمحہ تقاضا کرتا ہے، مصنوعی ذہانت انجینئرنگ کے گرد نئے سرے سے تشکیل دیے گئے جامعاتی نصاب، صنعت کی طلب سے براہ راست جڑی عملی تربیت، اور وہ راستے جو لوگوں کو بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت سے واقفیت سے مصنوعی ذہانت میں مہارت کی طرف لے جائیں۔ کوئی بھی انفرادی ادارہ قومی صلاحیت کا نظام تعمیر نہیں کر سکتا۔ یہ عوامی بنیادی ڈھانچہ ہے، سڑکوں اور بجلی کی طرح لازمی، اور فی الوقت یہ غائب ہے۔ مصنوعی ذہانت کے حل کی کاروباری طلب موجود ہے۔ پاکستانی اداروں کے پاس گاہکوں سے تعلقات اور ترسیل کا تجربہ موجود ہے۔ جو چیز غائب ہے وہ مصنوعی ذہانت کی گہری اور قابل اعتماد صلاحیت کی فراہمی ہے۔پاکستان کی ڈیجیٹل افرادی قوت نے لیپ ٹاپس اور محنت سے ایک ارب ڈالر کا برآمدی انجن تعمیر کیا۔ اس کی قدر کیجیے۔ لیکن اس کے پیچھے چھپیں مت۔ اگلی دہائی جیتنے والے وہ ممالک ہوں گے جو یہ تسلیم کرنے کی دیانت رکھتے ہیں کہ ان کی موجودہ کامیابی ایک ختم ہوتے ماڈل پر تعمیر ہے، اور تباہی سے پہلے ہی خود کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا نظم رکھتے ہیں، تباہی کے بعد نہیں۔