• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موسیقی صرف سُروں، دُھنوں اور شاعری کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے، فاصلے مٹانے اور انسان کے اندر کو چھونے والی ایک ایسی آفاقی زبان ہے جسے دنیا کا ہر انسان اور ہر معاشرہ سمجھتا ہے،میرا ماننا ہے کہ جب موسیقی کا مقصد محض تفریح نہ ہو بلکہ انسانیت کی خدمت، محبت کے فروغ اور دُکھی انسانوں کی مدد بن جائے تو وہ فلاحی مشن کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔ میں نےگزشتہ ماہ اس فلسفے کو بنیاد بناتے ہوئے پریم نگر چیریٹی کنسرٹ سیریز کا سلسلہ شروع کیا،عالمی شہرت یافتہ صوفی گلوکار راحت فتح علی خان کے دو انتہائی کامیاب فلاحی میوزیکل شوز کے بعد پریم نگر دی لینڈ آف لوَ ایک مرتبہ پھر انسانیت، محبت اور امید کا پیغام اجاگر کرنے شہرِ قائد میں ایک نئی تاریخ رقم کرنےجا رہا ہے۔ رواں ہفتے 18 جولائی کو ڈی ایچ اے اسپورٹس کلب، معین خان اکیڈمی، کراچی میں منعقد ہونے والے تیسرے پریم نگر چیریٹی کنسرٹ سیریز میں پاکستان کے دو عظیم موسیقار ایک ہی اسٹیج پر جلوہ گر ہونگے۔ ایک طرف صوفی موسیقی کی لازوال ملکہ عابدہ پروین ہوں گی، جن کی مسحور کن آواز کئی دہائیوں سے ہردردمند حساس دل کو اپنا گرویدہ بنارہی ہے، اور دوسری جانب نوجوان نسل کی دھڑکن دورِجدید کی پاپ موسیقی کے مقبول ترین ستارے عاصم اظہرپرفارم کریں گے۔ پیار محبت کی دھرتی سندھ سے تعلق رکھنے والی لیجنڈری عابدہ پروین کی آواز میں صدیوں پرانی پیار بھری صوفی روایت کی گونج سنائی دیتی ہے، وہ جب حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی، حضرت بلھے شاہ، بابا فرید، سلطان باہواور سچل سرمست کا لازوال کلام پیش کرتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محبت، برداشت، رواداری اور بھائی چارہ دنیا میں پنپتی نفرتوں کو شکست دے رہا ہے، انکی گائیکی مذہب، نسل، زبان اور اختلافات سے بالاتر کر اچھا انسان بننے کا درس دیتی ہے جس کی آج کے معاشرے کو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔دوسری طرف عاصم اظہر پاکستان کی اس نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو جدید ہے، باصلاحیت ہے،

تعلیم یافتہ ہے، گلوبل ویلج کا حصہ ہے اور اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے پُرعزم ہے۔ عاصم اظہر نے پریم نگر چیرٹی کنسرٹ سیریز کا حصہ بن کر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل صرف تفریح نہیں چاہتی بلکہ وہ ایسے مقاصد کا بھی حصہ بننا چاہتی ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکیں۔ مجھے یقین ہے کہ جب عابدہ پروین روحانی موسیقی اور عاصم اظہر پاپ میوزک کا مظاہرہ کرنے ایک ہی اسٹیج پر اکٹھے ہونگے تو یہ تاریخی موقع صرف ایک کنسرٹ نہیں رہے گا بلکہ دو نسلوں کے مابین محبت، امید اور حوصلے کا ایک خوبصورت مکالمہ بن جائے گا۔ تاہم اس رنگارنگ تقریب کی اصل خوبصورتی صرف موسیقی نہیں بلکہ یہ کنسرٹ پریم نگر دی لینڈ آف لوَ کے فلاحی منصوبوں کیلئےفنڈ ریزنگ کا ذریعہ ہے،سندھ کے پسماندہ ترین تھرپارکر کے صحراؤں میں بسایا جانے والا پریم نگرتیزی سے ایک ایسےجدید ماڈل ویلیج کا روپ دھار رہا ہے جہاں خصوصی بچوں، یتیم بچوں، بے سہارا خواتین، معمر شہریوں، معذور افراد اور معاشرے کے محروم طبقات کے لیے تعلیم، صحت، رہائش، ہنر مندی اور باوقار زندگی کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہاں اسپیشل چلڈرن سینٹر، اولڈ ایج ہوم، ایس او ایس چلڈرن ولیج، نرسنگ اینڈ پیرا میڈیکل کالج، اسکلز ڈویلپمنٹ سینٹر، کیڈٹ اینڈ ڈے اسکول، اسپورٹس کمپلیکس، آئی ٹی ہب، تھر یونیورسٹی اور متعدد دیگر منصوبےدُکھی انسانیت کی خدمت کیلئے قائم کیے جارہے ہیں۔تاہم ایسے منصوبے صرف خوابوں سے نہیں بنتے بلکہ ان کیلئے وسائل، تعاون اور اجتماعی ذمہ داری درکار ہوتی ہے، اسی مقصد کے حصول کی خاطر پریم نگر نے موسیقی، ثقافت اور انسانیت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے تاکہ لوگ ایک خوبصورت شام سے لطف اندوز بھی ہوں اور ساتھ ہی کسی بے سہارا انسان کی زندگی میں خوشی بھی بانٹ سکیں۔مجھے یقین ہے کہ جب آپ18جولائی کو ڈی ایچ اے اسپورٹس کلب میں منعقدہ پریم نگر کنسرٹ سیریز میں شریک معصوم اسپیشل چلڈرن کو دیکھیں گے تو آپ کو انکی آنکھوں میں امید نظر آئے گی، وہیل چیئر پر بیٹھے معذور افراد جب دو مختلف روایات کے امین موسیقاروں کو تالیاں بجا کر داد دیں گے تو آپ کا انسانیت پر یقین بڑھ جائے گا، جب کوئی بے سہارا کنسرٹ میں مسکرائے گا تو آپکا اپنا دِل بھی خوشی سے جھوم اُٹھے گا،آپ کو اپنے آپ پر فخر محسوس ہوگا کیونکہ معاشرے کےان پِسے ہوئے افراد کے چہروں پر خوشیاں لانے کا سبب آپ کاخریدا ہوا ٹکٹ ہو گا اور انسانیت کے اس نیک سفر میں آپ کا ساتھ ہوگا۔

تازہ ترین