• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خلاء میں پہلی بار ایکسرے تصاویر لینے میں کامیابی

تصاویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
تصاویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

 خلاء نوردوں نے پہلی بار خلاء میں تشخیصی معیار (Diagnostic Quality) کے ایکس رے لینے میں کامیابی حاصل کر لی، جسے خلائی طب اور مستقبل کے چاند و مریخ مشنز کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ کامیابی مارچ 2025ء میں اسپیس ایکس کے Fram2 مشن کے دوران حاصل ہوئی، جہاں کریو ڈریگن خلائی کیپسول میں سوار 4 خلاء بازوں نے ایک جدید، انتہائی ہلکی اور وائرلیس ڈیجیٹل ایکس رے مشین کے ذریعے اپنے ہاتھوں، بازوؤں، سینے، پیٹ اور کولہے کے ایکس رے لیے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے ریڈیولوجی میں شائع ہوئے، جن کے مطابق خلا میں لیے گئے ایکس رے معیار کے لحاظ سے زمین پر لیے جانے والے ایکس رے کے برابر ہیں۔

ماہرین کے مطابق روایتی ایکس رے مشینیں بڑی، بھاری اور زیادہ توانائی استعمال کرتی ہیں، جبکہ مریض کی معمولی حرکت سے تصاویر بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

 اس کے برعکس نئی پورٹیبل مشین نہایت ہلکی، تیز رفتار اور مائیکرو گریویٹی (کم کششِ ثقل) کے ماحول میں مؤثر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ Fram2 مشن کے عملے نے پرواز سے قبل صرف 4 گھنٹے کی تربیت حاصل کی تھی اور انہوں نے خلاء میں خود ہی اس مشین کو کامیابی سے استعمال کیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں چاند اور مریخ کے طویل دورانیے کے مشنز کے دوران ہڈی ٹوٹنے، اندرونی چوٹوں اور دیگر طبی مسائل کی فوری تشخیص میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گی، کیونکہ ایسے مشنز میں مریض کو فوری طور پر زمین پر واپس لانا ممکن نہیں ہوتا۔

طبی استعمال کے علاوہ یہ پورٹیبل ایکس رے مشین خلائی جہاز، اسپیس سوٹس اور دیگر اہم آلات کا معائنہ کرنے کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے تاکہ کسی بھی پوشیدہ خرابی کا بروقت پتا چلایا جا سکے۔

محققین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی صرف خلاء ہی نہیں بلکہ زمین کے دور دراز اور طبی سہولتوں سے محروم علاقوں میں بھی صحت کی سہولتیں بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں مزید چھوٹے، خودکار اور روبوٹک ایکس رے نظام تیار کرنے پر کام کیا جائے گا تاکہ مستقبل کے خلائی مشنز میں انہیں مزید مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

خاص رپورٹ سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید