حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے، یہاں 1960ء کے بعد 2025ء ملک کا گرم ترین سال ریکارڈ کیا گیا۔
رواں موسمِ گرما کے دوران بھی اسلام آباد میں درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔
گرمی سے صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور اور پرندے بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
اس حوالے سے اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے ڈائریکٹر اور اسلام آباد کے مارگلہ وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر کے نگراں سخاوت علی کا کہنا ہے کہ ماضی میں پتنگ بازی کے باعث پرندوں کے پر دھاگوں سے زخمی ہو جاتے تھے، لیکن گزشتہ 1 یا 2 سال سے ہمیں زیادہ تر ایسے پرندوں کے کیسز موصول ہو رہے ہیں جو پانی کی کمی اور شدید گرمی کے دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔
اُنہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں کے باہر پانی کے برتن رکھیں تاکہ پرندے پانی پی سکیں، نہا سکیں اور گرمی سے بچ سکیں۔
ان کے علاوہ اسلام آباد میں موجود وائلڈ لائف افسر ظہیر احمد نے بتایا کہ موسمِ گرما میں ریسکیو سینٹر کو روزانہ تقریباً 30 فون کالز موصول ہوتی ہیں جن میں پرندوں اور دیگر جانوروں کے متاثر ہونے کی اطلاعات دی جاتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی اولین ترجیحات متاثرہ جانوروں کو طبی امداد، خوراک اور پانی فراہم کرنا ہیں۔
ظہیر احمد نے بتایا کہ یہاں متاثرہ پرندوں کو صحتیاب ہو جانے تک قرنطینہ میں بھی رکھا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنگلات میں لگنے والی آگ بھی پرندوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے کیونکہ یہ اکثر ان کے افزائش نسل کے موسم کے دوران پھیلتی ہے۔
واضح رہے کہ مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر ماضی میں بدنامِ زمانہ اسلام آباد چڑیا گھر کا حصہ تھا جسے 2020ء میں بند کر دیا گیا تھا۔
وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر اسلام آباد میں پاکستان بھر سے زخمی اور متاثرہ جنگلی جانوروں کو بحالی کے لیے لایا جاتا ہے، جن میں نجی مالکان کے ہاتھوں بے رحمی کا شکار ہونے والے جانور بھی شامل ہیں۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہیٹ ویو جیسے شدید موسمی واقعات اب زیادہ شدت سے رونما ہو رہے ہیں۔