پشاور(ارشد عزیز ملک،گلزار محمد خان، جنگ نیوز ) وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 4اکتوبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، اسمبلی نہیں توڑوں گا، ضرورت پڑی تو بغاوت کرینگے، بانی کا پیغام ملا فرنٹ فٹ پر کھیلتے رہیں، لانگ مارچ کا آغاز پشاور سے ہوگا ،پہلے مرحلے میں صوابی جائیں گے اس کے بعد آگے بھی ضرور جائیں گے، ذہنی طور پر ہر قسم کے فیصلے اور حالات کیلئے تیار ہیں تاہم اگر ایمرجنسی ، گورنر راج یا کسی ایڈونچر کی کوشش کی گئی تو عوام کا ایسا ردعمل آئیگا کہ پھر کسی کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی، عوام نکلیں گے اور اپنے مینڈیٹ اور حکومت کی حفاظت کریں گے،لانگ مارچ ملتوی کرنے کے حوالے سے شوکت یوسف زئی کا خط ابھی نہیں آیا جب آئیگا تو پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دوں گا، صوبے کے حوالے سے بندکمروں کے فیصلے کسی صورت منظور نہیں ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلی ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس اور پنک بس سروس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔نمائندہ جنگ کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کےاراکین اسمبلی صوبے میں نئے وزیراعلی کے لئے رابطوں میں مصروف ہیں ان اراکین کا دعویٰ ہے موجودہ کشیدگی کے باعث سہیل آفریدی کو خود استعفیٰ دے دینا چاہیے تاکہ تحریک انصاف اپنا پارلیمانی لیڈر چن سکے ۔ ان کا خیال ہے سہیل آفریدی معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لے آئے ہیں ان کا دعویٰ ہے سہیل آفریدی نے اراکین کو دھمکی دی ہے کہ وہ اسمبلی بھی تحلیل کرسکتے ہیں اس صورتحال میں اراکین نے آپس میں رابطے تیز کر دئیے ہیں،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اسمبلی تحلیل کرنے کی خبروں کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف اپنے حقوق کے لیے پُرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے اسمبلی تحلیل کرنے پر غور سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ ایسا کوئی فیصلہ زیر غور نہیں۔ ان کا کہنا تھا،نہیں، یہ جھوٹی خبر ہے۔