• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت میں سرخ چیونٹیوں سے چٹنی بنانے کا انکشاف

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

بھارتی ریاست اڑیسہ میں سرخ بنکر چیونٹیوں اور ان کے بچوں سے ایک ذائقے میں تیز اور کھٹی چٹنی تیار کی جاتی ہے جسے مقامی قبائلی برادریاں نسلوں سے استعمال کرتی آ رہی ہیں۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ چیونٹیاں درختوں کے پتوں کو جوڑ کر گھونسلے بناتی ہیں، مقامی افراد صبح سویرے درختوں سے ان کے گھونسلے جمع کرتے ہیں تاہم چیونٹیاں گھونسلے میں خلل پڑنے پر کاٹتی ہیں۔ 

چیونٹیوں اور گھونسلوں کو جمع کرنے کے بعد انہیں دھو کر خشک کیا جاتا ہے، بعض افراد انہیں فروخت بھی کرتے ہیں جس سے مقامی خاندانوں کو اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

چٹنی بنانے کے لیے صاف کی گئی چیونٹیوں کو نمک، لہسن، ادرک اور مرچ کے ساتھ پیسا جاتا ہے جبکہ بعض ترکیبوں میں پودینہ بھی شامل کیا جاتا ہے، یہ آمیزہ عموماً پتھر کی سل پر تیار کیا جاتا ہے۔

سرخ چیونٹیوں کی یہ چٹنی تیز اور کھٹا ذائقہ رکھتی ہے اور اسے مقامی کھانوں، چاول اور باجرے کی تیار کردہ غذاؤں کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔

ریاست اڑیسہ کی ’سملی پال کائی چٹنی‘ کو جغرافیائی شناخت کا اندراج بھی حاصل ہے جس کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ 2 جنوری 2024ء کو جاری کیا گیا تھا۔

سرخ چیونٹیوں سے تیار کی جانے والی چٹنی صرف اڑیسہ تک محدود نہیں بلکہ بھارت کے دیگر علاقوں بشمول چھتیس گڑھ میں بھی استعمال کی جاتی ہے تاہم وہاں اسے مختلف طریقے سے تیار کیا جاتا ہے۔

دلچسپ و عجیب سے مزید