گوگل کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ’ڈیپ مائنڈ‘ کے سربراہ ڈیمن ہسابس نے خبردار کیا ہے کہ انسان نما مصنوعی ذہانت یعنی ’آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس‘ (اے جی آئی) کی آمد میں صرف چند سال باقی رہ گئے ہیں، اس لیے دنیا کو فوری طور پر ایک عالمی نگرانی کا ادارہ قائم کرنا چاہیے تاکہ اس ٹیکنالوجی کو انسانیت کے فائدے کے لیے محفوظ طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔
ڈیمن ہسابس کے مطابق اے جی آئی AI کی ایک قسم ہے جو عملی طور پر تمام علمی کاموں میں انسانی صلاحیتوں سے میل کھاتی ہے یا انسانی ذہانت سے بھی آگے سوچ سکتی ہے، یہ ایسی مصنوعی ذہانت ہو گی جو انسانی دماغ جیسی تمام بنیادی ذہنی صلاحیتیں رکھتی ہو گی اور تقریباً ہر علمی شعبے میں انسانوں کے برابر یا ان سے بہتر کارکردگی دکھا سکے گی۔
واضح رہے کہ انہوں نے جون میں بھی کہا تھا کہ اے جی آئی کے آنے میں تقریباً 3 سے 4 سال باقی ہیں۔
ہسابس نے کہا کہ اس وقت دنیا کی توجہ مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ پر زیادہ ہے جبکہ اس سے پیدا ہونے والے خطرات پر مناسب توجہ نہیں دی جا رہی۔
ان کے مطابق جدید ترین مصنوعی ذہانت کے نظام پہلے ہی سائبر حملوں جیسے مسائل پیدا کر رہے ہیں جبکہ مستقبل میں جوہری اور حیاتیاتی خطرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
ڈیمن ہسابس نے ایک ایسے عالمی ادارے کی تجویز دی ہے جو مالیاتی شعبے کے نگراں ادارے کی طرز پر کام کرے، اس ادارے میں مصنوعی ذہانت کے ماہرین شامل ہوں گے، اس کی مالی معاونت زیادہ تر مصنوعی ذہانت کی صنعت کرے گی اور یہ ادارہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے لیے حفاظتی معیار تیار کرے گا۔
ان کی تجویز کے مطابق مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیاں ابتداء میں اپنے طاقت ور ترین نظاموں کو جاری کرنے سے پہلے رضاکارانہ طور پر جانچ کے لیے پیش کریں گی، بعد میں یہ عمل لازمی بھی بنایا جا سکتا ہے۔
ہسابس کا کہنا ہے کہ امریکا اس نظام کے آغاز کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے کیونکہ وہ ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدان میں مضبوط مقام رکھتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی قیادت میں شروع ہونے والا نظام مستقبل میں پوری دنیا کے لیے مشترکہ اصول بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
ڈیمن ہسابس کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص یقینی طور پر نہیں جانتا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل کیا ہو گا، اس لیے احتیاط اور امید کے ساتھ آگے بڑھنا ضروری ہے۔
ہسابس کے مطابق اگر اے جی آئی کو ذمے داری سے تیار اور استعمال کیا گیا تو یہ انسانی تاریخ کی سب سے فائدہ مند ٹیکنالوجیز میں شامل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دریافت بجلی یا آگ کی دریافت جیسی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ انسان نے پہلی بار ایسا نظام بنایا ہے جو سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈیمن ہسابس کا اندازہ ہے کہ اے جی آئی کا اثر صنعتی انقلاب سے بھی کئی گنا زیادہ ہو سکتا ہے اور یہ بہت کم وقت میں دنیا کو بدل سکتی ہے۔
ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ادویات کی تیاری، صاف توانائی، جدید مواد کی تخلیق اور سائنسی ترقی میں انقلاب لا سکتی ہے جس سے انسانی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ہسابس نے کہا ہے کہ دنیا اس وقت انسانی تاریخ کے ایک اہم ترین موڑ پر کھڑی ہے اور آج کیے جانے والے فیصلے طے کریں گے کہ مصنوعی ذہانت کا اگلا دور انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا یا نہیں۔