یونان میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے تقریباً 2400 سال پرانا ایک قدیم تعلیمی مرکز دریافت کیا ہے، جہاں ممکنہ طور پر عظیم فلسفی ارسطو نے نوجوان سکندر اعظم کو تعلیم دی تھی۔
یہ وسیع و عریض عمارت شمالی یونان کے قدیم شہر میزا میں دریافت ہوئی ہے اور اس کا تعلق چوتھی صدی قبلِ مسیح سے ہے، جب سکندر اعظم کے والد فلپ دوم مقدونیہ کے بادشاہ تھے۔
کھدائی کے دوران ایک لیکچر ہال، پتھر کی میزیں، اسٹیڈیم، کھیلوں کا میدان، ڈھکی ہوئی راہ داری اور دو ضیافت ہال دریافت ہوئے ہیں۔
ضیافت ہالز میں رنگ برنگے موزائیک فرش اور بلند حصے بھی موجود تھے جہاں ماضی میں صوفے رکھے جاتے تھے۔
ماہرین کو کھدائی کے دوران سکے، مٹی کے برتن اور لکھنے کے لیے استعمال ہونے والے 4 قلم نما اوزار بھی ملے ہیں۔
کھدائی کی سربراہی کرنے والی ماہرِ آثارِ قدیمہ انجلیکی کوٹاریدی کا خیال ہے کہ یہ مقام شاہی جمنازیم تھا، جہاں ارسطو نے سکندر اعظم اور مقدونیہ کے اشرافیہ خاندانوں کے دیگر نوجوانوں کو تعلیم دی۔
قدیم ذرائع میں پہلے ہی میزا کو ارسطو کے تعلیمی مرکز کے طور پر بیان کیا گیا ہے، ارسطو کو مقدونیہ کے بادشاہ فلپ دوم نے تقریباً 343 قبل مسیح میں اپنے نو عمر بیٹے سکندر کی تعلیم و تربیت کے لیے مدعو کیا تھا۔
بعد ازاں سکندر اعظم مقدونیہ کا بادشاہ بنا اور یونان سے مصر اور ہندوستان تک وسیع سلطنت قائم کی، اس کا انتقال 32 برس کی عمر میں ہوا تھا۔
دریافت ہونے والے اس کمپلیکس کا طرزِ تعمیر بھی ایگائی کے شاہی محل سے مماثلت رکھتا ہے، جہاں سکندر اعظم اور اس کے والد رہتے تھے۔
اگرچہ کوئی ایسا کتبہ دریافت نہیں ہوا جس سے یہ ثابت ہو کہ ارسطو کسی مخصوص کمرے میں پڑھاتے تھے یا سکندر اعظم نے یہاں سے ملنے والے قلم نما اوزاروں میں سے کوئی استعمال کیا تھا، تاہم مقام کی قدامت، محلِ وقوع، وسعت اور مقدونیہ کے شاہی خاندان سے تعلق نے ماہرین کے اس مؤقف کو تقویت دی ہے کہ ممکنہ طور پر یہی وہ تعلیمی مرکز ہے جہاں مستقبل کے فاتح سکندر اعظم نے تعلیم حاصل کی تھی۔