• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

KP پولیس ایکٹ میں مجوزہ ترمیم، صوبائی وزراء اور پولیس حکام میں اختیارات پر شدید اختلافات

پشاور (ارشد عزیز ملک) خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی منظوری کے دوران صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پولیس کے اختیارات، تقرریوں، تبادلوں اور کمانڈ اسٹرکچر پر پولیس حکام اور وزرا کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے۔ ذرائع کے مطابق بعض معاملات پر پولیس حکام اور کابینہ اراکین کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔پولیس حکام نے کابینہ کو بارہا خبردار کیا کہ مجوزہ ترامیم سے پولیس کا موجودہ کمانڈ اور انتظامی اسٹرکچر متاثر ہوگا، سیاسی مداخلت بڑھے گی اور مستقبل میں آنے والی کوئی بھی حکومت پولیس کے اختیارات کو سیاسی مقاصد اور مخالفین کے خلاف استعمال کریگی۔ذرائع کے مطابق بدھ کے روزکابینہ اجلاس میں اہم معاملہ 18، 19 اور 20 گریڈ کے پولیس افسران کی تقرری اور ٹرانسفر پوسٹنگ کے اختیار کا تھا۔صوبائی حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ 18، 19 ،20 اور 21گریڈ کے افسران کی تقرری اور ٹرانسفر پوسٹنگ کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہونا چاہیے، جبکہ ایس پی اور ڈی ایس پی سطح کے افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کا اختیار محکمہ داخلہ کو دیا جائے۔پولیس حکام نے اس تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کابینہ کو بتایا کہ پولیس میں ایک واضح کمانڈ اور انتظامی سٹرکچر موجود ہے۔ مختلف سطح کے افسران کی تقرری اور تبادلے اسی سٹرکچر کے تحت ہوتے ہیں اور سیاسی حکومت کو براہ راست اختیارات دینے سے پولیس کے پیشہ ورانہ کمانڈ سسٹم میں مداخلت ہوگی۔ایس پی اور ڈی ایس پیز کی تقرریوں اور تبادلوں کا اختیار متعلقہ ڈی آئی جیز اور ڈی پی اوزکے پاس ہوتا ہے ذرائع کے مطابق اس معاملے پر بحث کے دوران ماحول کشیدہ ہوگیا اور پولیس حکام اور بعض وزرا کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں حکومت کی جانب سے ڈی ایس پیز کی براہ راست بھرتی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ صوبائی حکومت چاہتی تھی کہ ڈی ایس پی کی 40 فیصد براہ راست تقرری کی جائے۔

اہم خبریں سے مزید